"MABC" (space) message & send to 7575

جہانگیر ترین فوبیا

آرمی پبلک سکول پشاور پر جب عالمی دہشت گردوں نے حملہ کیا تو وطن کے نو نہالوں کی غمناک شہادتوں نے پوری قوم کو رنج و غم میں مبتلا کر دیا۔ ہر آنکھ رودی‘ ہر زبان تھرا کر رہ گئی‘ ہر دل تڑپ اٹھا‘ لمحے بھر میں ساری قوم دہشت گردوں کو کچلنے کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن کر سرا پا احتجاج بن گئی۔126 دنوں سے جاری اسلام آباد کے ڈی چوک میں تحریک انصاف کا دھرنا ختم کرتے ہوئے عمران خان اپنی جماعت کے سینئر اراکین کے ساتھ پشاور روانہ ہو گئے جہاں کے پی کے گورنر ہائوس میں نواز لیگ نے تمام جماعتوں کے سربراہان کو اپنی قوم کے ان بیٹوں کی شہا دتوں پر دشمن کے خلاف ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کیلئے مدعو کیا تھا۔۔۔۔لیکن میاں نواز شریف کے گورنر ہائوس پشاور میںقومی یکجہتی کے نام سے بلائے گئے اس اجلاس کے شروع ہونے سے پہلے ایک عجیب سا منظر دیکھنے کو ملا جس نے اس وقت ٹی وی چینلز کے سامنے بیٹھے ہوئے کروڑوں نہیں تو لاکھوں دیکھنے والوں کو چونکا کر رکھ دیا کہ ایسا کسی مصروفیت یا نادانستگی میں تو نہیں ہوا۔۔۔لیکن اس منظر کو آج بھی اگر ایک دفعہ پھر دیکھا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ نادانستگی میں نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا اور اس وقت اگر میاں نواز شریف کے چہرے کے تاثرات کو بغور دیکھا جائے تو فوری احساس ہو گا کہ ان کا چہرہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ ان کی جانب ہاتھ بڑھائے ہوئے شخص سے انہیں دلی نفرت ہے۔۔۔۔ عمران خان اور جہانگیر ترین جب گورنر ہائوس پشاور کے اس دربار ہال میں داخل ہوئے جہاں میاں نواز شریف آل پارٹی کانفرنس کے مدعوئین کا استقبال کر رہے تھے تو انہوں نے عمران خان کا اپنی جانب بڑھا ہوا ہاتھ مصافحہ کیلئے قبول کر لیا لیکن ان کی جماعت کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین جو اپنے چیئر مین کے ساتھ دربار ہال میں داخل ہوئے تھے وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے لیکن میاں نواز شریف نے ترین کا اپنی جانب بڑھا ہوا ہاتھ مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے منہ دوسری جانب پھیر لیا اور جہانگیر ترین ان کا منہ دیکھتے رہ گئے کہ ملک کا وزیر اعظم ابھی آرمی پبلک سکول میں برپا کی جانے والی قیامت صغریٰ سے نڈھال قوم کو ڈھارس اور حوصلہ دینے کی باتیں کر رہا تھا لیکن یہ کیا کہ قوم کے بچوں کے قتل عام کو ابھی چند گھنٹے بھی نہیں گزرے کہ وزیر اعظم پاکستان کو سیا سی مخالفتوں نے ڈسنا شروع کر دیا۔ آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی پر پوری دنیا کانپ اٹھی تھی اور اس کے خلاف دنیا کو قومی یکجہتی دکھانے کی بجائے اپنی سیا سی نفرت دکھا ئی جا رہی ہے۔ پشاور گورنر ہائوس کے دربار ہال میں قومی رہنمائوں کی کانفرنس میں ابھی آپ کہیں گے کہ اس دہشت گردی پر مجھے سخت دکھ اور غم ہے اور اس کے خلاف میں کوئی ایکشن لینے کیلئے قوم کو اکٹھا کر رہا ہوں لیکن ہو یہ رہا ہے کہ ملک کی دوسری بڑی ا ور کے پی کے میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اور عمران خان کے انتہائی معتمد جہانگیر خان ترین کے اپنی جانب مصافحہ کیلئے بڑھے ہوئے ہاتھوں کو وقت کا حکمران اس طرح نظر انداز کر رہا تھا جیسے اس وقت وہ گورنر ہائوس میں دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ اپنے سب سے بڑے سیا سی مخالف کے خلاف دلی نفرت کے ا ظہار کیلئے کھڑا ہوا تھا۔
یکم اپریل کو میاں نواز شریف نے عمران خان کے بعد تحریک انصاف کی جس شخصیت کو اپنے تیرو نشتر کا نشانہ بنایا وہ جہانگیر خان ترین ہیں۔ ایک سیا سی ورکر اور میڈیا سے منسلک شخص یہ سوچنے پر مجبور ہونے لگتا ہے کہ آخر تحریک انصاف میں عمران خان کے بعد جہانگیر ترین ہی میاں نواز شریف کی نفرت کا نشانہ کیوں؟۔کیا اس کے پیچھے یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ جہانگیر خان ترین اپنی وسیع قلبی اور گنے کے کسانوں کیلئے اچھے خیالات رکھنے کی وجہ سے شریف فیملی کی شوگر ملوں کیلئے باعث نقصان ہو گیا ہے؟کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ گنے کے کاشتکاروں کو شریف فیملی کی شوگر ملوں کے مقابلے میں جہانگیر خان ترین کی شوگر ملیں بہتر وزن اور بہتر نرخ دے رہی ہیں؟ کہیںاس کی وجہ یہ تو نہیں کہ دوسری شوگر ملوں کے مقابلے میں جہانگیر خان ترین کی شوگر ملیں کاشتکاروں کو ایک ایک دو دو سال کیلئے ادائیگیوں کیلئے قطاروں میں کھڑا نہیں کرتیں؟۔کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ جہانگیر ترین کی شوگر ملیں شریف برادران اور ان کے حواری شوگر مل مالکان کے مقابلے میں پورے پورے وزن کی ادائیگیاں کر رہی ہیں؟۔ اگر یہ وجوہات نہیں تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ شریف فیملی کو ان سے اس لئے خدا واسطے کابیر ہو چلا ہے کہ وہ عمران خان کے سیا سی ہم سفر کیوں ہیں؟۔ عمران خان کو اپنا ہیلی کاپٹر اور جہاز سپرد کرتے ہوئے وہ سیا سی سفر جو اس نے ایک ماہ میں مکمل کرناتھاجہانگیر ترین کی وجہ سے چند دنوں میں مکمل ہوناشروع ہو گیا ؟۔آپ کو جہانگیر ترین سے سب سے بڑا یہ شکوہ بتایا جاتا ہے کہ اس نے تحریک انصاف اور عمران خان کیلئے دل کھول کر پارٹی فنڈز مہیا کئے اور کرائے جن کا آپ کو علم ہے؟۔
آپ کو کہیں جہانگیر ترین سے یہ شکایت تو نہیں کہ ان کے ''رابطے بہت وسیع ‘‘ ہیں آپ کو کہیں ان پر یہ غصہ تو نہیں کہ جنوبی پنجاب میں وہ آپ کے وننگ امیدواروں کی ایک بہت بڑی کھیپ کو ایک ایک کرتے ہوئے تحریک انصاف میں لا رہے ہیں؟۔گذشتہ دو برسوں سے آپ کی میڈیا ٹیم کے وہ لوگ جنہیں آج ان کی ان خدمات کے عوض وفاق میں اہم وزارتیں سونپیں گئی ہیں آپ کے ترجمان بن کر ایک ہی لفظ کہا کرتے تھے '' ہائے جیٹ ترین ہائے جیٹ ترین‘‘ ان کی ذات سے آپ کو یہی دکھ تھا کہ ترین نے عمران کیلئے اتنی سہولتیں کیوں پیدا کر دی ہیں ورنہ عمران خان تو ایک اچھی سواری کیلئے ترستا رہتا تھا؟۔
جہانگیر ترین کی سپریم کورٹ سے نا اہلی کے بعد جب ان کے نوجوان بیٹے کو ضمنی انتخاب کیلئے پارٹی ٹکٹ دیا گیا تو مسلم لیگ نواز کے میڈیا نے ایک ہی راگ الاپنا شروع کر دیا کہ اب کہاں گئیںعمران خان کی موروثی سیا ست کے خلاف دلیلیں؟ کیا یہ ٹکٹ لودھراں میں کسی اور امیدوار کو نہیں دیا جا سکتا تھا؟۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر جہانگیر ترین سے ایک سیا سی غلطی ہو گئی انہیں چاہئے تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی بجائے یہاں سے کسی دوسرے با اثر شخص یا ضلعی عہدیدار کو ٹکٹ دیتے لیکن افسوس کہ کچھ نادان دوست سمجھ ہی نہ سکے کہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف نے اس نشست کیلئے ایک ارب روپے کا بجٹ اپنے پاس رکھا ہوا تھا اور ان کی کوشش تھی کہ کسی دوسرے شخص کو تحریک انصاف کا ٹکٹ ملنے پر اس پر سیا سی ، مالی اور حکومتی دبائو کی تھر ڈ ڈگری استعمال کرتے ہوئے اسے الیکشن سے دستبردار کرا لیا جائے گا۔یاد رہے کہ آخری لمحے تک نواز لیگ کی جانب سے کوئی بھی لاکھ دبائو کے با وجود ضمنی الیکشن میں حصہ نہیں لے رہا تھا اورجس طرح اپنا امیدوار سامنے لایا گیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں تھا اور تحریک انصاف کے دستبردار ہونے والے سے یہ وعدہ کیا جا نا تھا کہ اس دست برداری کے عوض عام انتخابات میں نون لیگ کا ٹکٹ تمہیں دیا جائے گا۔
ہاں ان کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ میاں نواز شریف کی سیا ست کے سب سے بڑے مخالف عمران خان کی تن من دھن سے مدد کیوں کر رہے ہیں؟۔ میاں نواز شریف کو یہ بھی شکوہ ہے کہ '' پس پردہ طاقتوں سے عمران خان کے نہیں بلکہ جہانگیر ترین کے رابطے چلے آ رہے ہیں؟‘‘ ارے بھائی اگر آپ کے بھائی اور پرانے ساتھی پس پردہ قوتوں سے صبح شام ملاقاتیں کریں تو وہ جائز اور اگر جہانگیر ترین کسی سے ملنے چلے جائیں تو وہ گناہ کیسے ہو گیا؟۔ !!

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں