Coronavirus Updates
"MABC" (space) message & send to 7575

داعش، سوشل میڈیا اور ففتھ جنریشن وار فیئر

افغانستان میں گزشتہ کئی ہفتوں سے داعش کی جانب سے ہر جمعۃ المبارک کوکسی مسجد یا مذہبی اجتماع کو بم دھماکوں سے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، اب تک ایک سو پچاس سے زائد افراد ان حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ ان بم حملوں اور خود کش دھماکوں کے بعد بڑے فخر کے ساتھ داعش ان کی ذمہ داری بھی قبول کر رہی ہے۔ اس وقت عالمی امن اور افغانستان کو طالبان سے نہیں بلکہ داعش اور اس کے سرپرستوں سے خطرہ ہے کیونکہ اگر طالبان کو ناکام کیا گیا‘ ان کے اتحاد اور ان کی قوت کو کمزور کیا گیا تو اس سے افغانستان میں پھر سے وار لارڈز، منشیات کے سمگلروں کے عالمی نیٹ ورک اور مختلف جنگی گروہوں کی نہ ختم ہونے والی ایسی لڑائیاں شروع ہو جائیں گی جن سے پاکستان‘ ایران اور سینٹرل ایشیا کی ریاستوں کے امن اور معاشی استحکام کیلئے شدید خطرہ پیدا ہوجائے گا، خطے کے مسائل اپنی جگہ‘ اس صورتحال سے امریکا سمیت دنیا کا امن بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ کل کو اگر ان بم دھماکوں کا سلسلہ خلیجی ممالک سمیت امریکا اور مغرب تک دراز ہو گیا تو پھر کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ اس لیے ضرورت ہے کہ اس فتنے کو یہیں پر دبانے کے لیے تمام ممالک مل کر کوششیں کریں۔
بھارت کی اس وقت بھر پور کوشش ہے کہ افغانستان میں اس قدر انارکی پھیلا دی جائے کہ اسے دوبارہ وہاں اپنے قدم جمانے کا موقع مل جائے کیونکہ اس کے سامنے ہمہ وقت اکھنڈ بھارت کا خواب رہتا ہے اور اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے۔ پاکستان میں فتنہ و فساد کا راستہ افغانستان سے ہو کر آتا ہے، اسی لیے کبھی یہاں کے اور کبھی وہاں کے لیڈروں کو اکسایا جاتا ہے کہ وہ 'افغانیہ‘ سمیت ڈیورنڈ لائن کے متنازع ہونے اور اس کو تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے بیانات داغتے رہیں۔آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ دورِ حکومت میں وزیراعظم نواز شریف کے ایک مشیر نے 'افغانیہ‘ کا شوشہ چھیڑا تھا اور کسی جانب سے اس کی کوئی مذمت نہیں کی گئی تھی۔ یہی وہ فرق ہے جو ہم جیسے لکھنے والوں کو مہنگائی اور بیڈ گورننس کے باوجود پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کی حمایت کیلئے اُکساتا ہے وگرنہ جس قسم کا سلوک پی ٹی آئی کے ''کرایہ پرلئے گئے‘‘ افراد نے گزشتہ تین برسوں میں ہمارے جیسے لکھاریوں کے ساتھ روا رکھاہے‘ وہ ہمیں گھر بٹھانے کیلئے کافی تھا؛ تاہم جب بھی وطن عزیز کی محبت اور سالمیت آڑے آتی ہے‘ ہم بغیر وردی کے سپاہی بن کر دشمن کے سوشل میڈیا سیل کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے تئیں دن رات مصروفِ عمل ہو جاتے ہیں جس کا صلہ ہمیں وطن کی سالمیت اور مضبوطی کے علا وہ اور کچھ نہیں چاہیے۔
داعش کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے بم دھماکے ا ور خود کش حملے ایک باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کرائے جا رہے ہیں اور اس وقت بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کی ایک ہی کوشش ہے کہ دنیا جہان سے ملنے والی نفری کے ذریعے داعش کو اس قدر مضبوط کر دیا جائے کہ افغان طالبان اور ان کی حکومت کو لیبیا، شام اور یمن بنا دیں اور اس کیلئے بھارت کے شہر کیرالا سے نوجوانوں کو ورغلا کر دھڑا دھڑ افغانستان پہنچا یا جا رہا ہے۔ شنید ہے کہ مودی حکومت اور اجیت دوول بھارت میں بھی کسی ایسے علاقے میں‘ جہاں مسلم اکثریت ہو‘ کچھ خود کش دھماکے کراوا کے دنیا کو گمراہ کرنے کی پلاننگ میں مصروف ہیں۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری داعش قبول کرے گی اور بھارت ان حملوں سے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرے گا کہ وہ بھی داعش کی دہشت گردی کا شکار ہے۔
جمعرات 17 اگست 2017ء کو آرمی چیف جنرل قمر جا وید باجوہ نے آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ کے دورے کے دوران ملک کی نئی نسل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ داعش کے پروپیگنڈاجال میں آنے سے خود کو اور اپنے ساتھیوں کو بچائیں کیونکہ اس وقت داعش سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کے نوجوانوں کو اپنے دامِ فریب میں پھانس رہی ہے، یہ ایک ایسا فتنہ ہے جس کا مقصد اقوام عالم میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ وہ ممالک جنہوں نے امریکا کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا‘ وہی داعش کے اولین نشانے پر ہیں۔امریکا داعش کا ہوّا کھڑا کر کے مسلم دنیا کو اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتا ہے اور اگر تھوڑا پیچھے جا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ داعش کا جنم عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں اُس وقت ہوا جب وہاں پر امریکا کی کٹھ پتلی حکومت قائم تھی۔امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ہوتے ہوئے کیسے ایک چھوٹا سا گروہ اتنا طاقتور بن گیا کہ آج پوری دنیا اس کے خطرے کا سامنا کر رہی ہے؟ کس نے داعش کی عراق اور شام کے تیل کے کنوئوں تک رسائی آسان بنا کر اس کے لیے بے تحاشا فنڈنگ کا اہتمام کیا تھا؟
دہشت گردی سے مملکت خدا داد پاکستان اور اس کے عوام کو محفوظ رکھنے کیلئے جو قربانیاں پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں اور خود عوام نے دی ہیں اور اب تک دے رہے ہیں‘ اس کی دنیا بھر میں کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ آرمی چیف جنرل قمرجا وید باجوہ کے سوشل میڈیا پر بیٹھے داعش کے گھاگ اور خطرناک شکا ریوں کے جال سے بچنے کیلئے کہے جانے والے الفاظ اس ''ففتھ جنریشن وار فیئر‘‘ کا حوالہ ہیں جو امریکا، بھارت اوراسرائیل‘ سب مل کر پاکستان کے خلاف شروع کئے ہوئے ہیں۔ بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی میں داعش کی فریب کاریوں کا ایک مرکز بھارت تو دوسرا افغانستان میں کام کر رہاہے جس کا ایک ثبوت اپریل 2017ء میں پاک افغان سرحد سے متصل پہاڑوں میں قائم داعش کے ایک مرکز پر ہونے والی امریکی بمباری ہے‘ اس مرکز کے ملبے سے داعش سے تعلق رکھنے والے تیرہ بھارتیوں کی لاشیں بھی ملی تھیں ۔بھارتی میڈیا نے بھی ان تیرہ افراد کے بھارتی ہونے کی تصدیق کی تھی اور یہ سب کیرالا سے تعلق رکھتے تھے۔ پاکستان جنوبی ایشیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے روزِ اول سے بھارت کے آگے جھکنے سے نہ صرف یہ کہ انکار کیا بلکہ اس کی سرحدوں پر جدید ترین اسلحے سے لیس 7 لاکھ سے فوج اور رینجرز اپنے مد مقابل کو للکار رہی ہیں ۔اب یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں رہا کہ FATFکوئی ادارہ نہیں بلکہ وہ ہتھیار ہے جس کے دستہ برطانیہ، فرانس اور امریکا نے تھام رکھا ہے جس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اس کے ذریعے تمام ممالک کو اپنے قدموں میں جھکنے پر مجبور کر دیا جائے، اب اس ہتھیار کی اگلی ضرب ترکی پر لگائی گئی ہے۔
امریکہ کے سابق صدر اوباما نے چھپ کر نہیں بلکہ سب کے سامنے اقرار کیا تھا کہ امریکا پاکستانی ذرائع ابلاغ پرپچاس ملین ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے۔ مقامِ افسوس ہے کہ آج تک کسی بھی پاکستانی عہدیدار یا حکومت نے یہ پوچھنے یا جاننے کی کوشش نہیں کی کہ یہ پچاس ملین ڈالر پاکستان میں کہاں کہاں اور کن مقاصد کیلئے خرچ کیے گئے۔ کیا اس سے بھی یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ ہم فتھ جنریشن وار کی براہِ راست زد میں ہیں اور وہ بھی نہ جانے کب سے۔ اس وار فیئر کا سب سے زیا دہ انحصار ''ڈِس انفارمیشن‘‘ پر ہوتا ہے جس کا ثبوت دنیا بھر میں پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرتیں ہیں۔ آج کل پھر امریکا کو ''فضائی راستہ ‘‘ دینے کی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، ان خبروں کی 'بنیاد‘ دیکھ لیں تو تمام حقیقت واضح ہو جائے گی۔ ان حالات میں پاکستانی عوام کو اپنی آنکھیں کھولنا ہوں گی اور دشمن کی ففتھ جنریشن وار فیئر کے خلاف آگے بڑھتے ہوئے سوشل میڈیا پر خلوصِ نیت سے ایک سپاہی کے طو رپر خود کو ہر وقت تیار رکھنا ہو گا۔ ففتھ جنریشن وار کیلئے جو طاقت، وسائل اور ڈالر مہیا کیے گئے ہیں‘ ان کا مقابلہ صرف قوتِ ایمانی اور وطن سے سچی محبت سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں