نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آج اپوزیشن کی شکست میں مزید اضافہ ہوا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اپوزیشن کےخواب اس ایوان میں بھی پورےنہیں ہوئے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اپوزیشن قومی اسمبلی میں عدم اعتماد لانے کاخواب دیکھ رہی تھی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- فضل الرحمان اپنا حلوہ اورمنجن بیچنےکےچکرمیں ہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- حکومت نےسینیٹ میں اپنی برتری ثابت کردی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اسٹیٹ بینک کوسیاسی مداخلت سےآزاد کیا ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- پوری قوم کواسٹیٹ بینک ترمیمی بل پرمبارکباددیتاہوں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- لاہورمیں ایک نیا شہر بسایاجارہاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- منتشراپوزیشن کوناکارہ حکمت عملی کےباعث شکست ہوئی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- سینٹرل بزنس سٹی سےلاہورکی لینڈاسکیپ تبدیل ہوگی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- پالیسی سازی ایگزیکٹواورپارلیمان کااختیارہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- پارلیمان کااختیارپارلیمان کےپاس رہناچاہیئے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی میں کسی کوپتانہیں کہ کیابولنا ہے،فوادچودھری
Coronavirus Updates
"MABC" (space) message & send to 7575

غرور

سوشل میڈیا پر جس طرح کچھ خاص قسم کے پاکستانی شہریوں سے مماثل ناموں اور گروپوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی موجو دہ سیا سی قیا دت اور خاص طور پر سکیورٹی سے متعلق اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اپنے نشانوں پر رکھ کر باقاعدہ مہمات چلائی جاتی ہیں‘ ان سے پتا چلتا ہے کہ یہ کسی شوق سے نہیں بلکہ باقاعدہ ایک پلان اور ترتیب کے تحت کیا جارہاہے۔ ''ڈس انفو لیب‘‘ کے تربیت یافتہ گروپس اور افراد ہی ایسا کام کر سکتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ بھی ہے کہ گزشتہ تین‘ چار برس سے پاکستان میں بھی کچھ حلقے ملکی اداروں کے خلاف باقاعدہ محاذ کھولے ہوئے ہیں اور یہ اس طرح کی کمپین میں یوں حصہ لیتے ہیں جیسے ان کے اور 'ڈس انفو لیب‘کے دکھ سانجھے ہوں۔
قبیلے‘ گروہ یا ریا ست کی اپنے مخالفین سے جنگیں اور لڑائیاں معمول کی بات ہیں۔ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان میں ایک فریق کی فتح تو دوسرے کی شکست یا وقتی پسپائی ہوتی ہے ۔ بسا اوقات اپنی مخالف ریا ست کے سامنے بعض شرائط پر ہتھیار بھی ڈالنا پڑتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کچھ لوگ ہتھیار ڈال تو دیتے ہیں لیکن پھینکتے نہیں۔ ہمارے ہاں گزشتہ پچاس سالوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ جیسے ہی نومبر کا اختتام ہونے لگتا ہے‘ سانحہ سقوطِ ڈھاکہ کو بنیاد بنا کر دفاعی اداروں پر تنقید کا ایسا بازار گرم کیا جاتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ 71ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان میں ہمارے جوانوں کو بھارت کا نہیں بلکہ مکتی باہنی اور بنگالی عوام کا سامنا تھا اور کوئی بھی فوج‘ خواہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو‘ اپنے عوام کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔ سوویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ اپنے وقت کی سپر پاور کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ اگرچہ 71ء کی جنگ کے حوالے سے پہلے بھی کئی حقائق پر بات ہو چکی ہے مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ جنگ محض مشرقی پاکستان میں نہیں لڑی گئی بلکہ ہماری پوری مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر بھی لڑی گئی۔ اگرچہ ڈھاکہ میں بھارتی آرمی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے لیکن ہتھیار پھینکے نہیں گئے تھے اور یہ ہتھیار پاک آرمی نے صرف پانچ ماہ بعد دوبارہ اس شان سے اٹھائے اور لیپا کی مشہور وادی میں بھارتی فوج کے خلاف ایک ایسامعرکہ لڑا کہ دشمن فوج کے دو میجروں سمیت 123 افسر اورجوان گرفتار کر لیے۔ اس معرکے میں کرنل حق نواز (ڈبل ستارۂ جرأت) نے شہا دت کا مرتبہ حاصل کیا تھا؛ تاہم اس معرکے کی شان یہ تھی کہ بھارتی فوج پہاڑ کی چوٹی پر مورچہ زن تھی اورپاکستانی فوج زمین سے عمو دی چڑھائی چڑھتے ہوئے دشمن سے یہ علا قہ خالی کرا رہی تھی جس پر وہ اپنے زعم میں قبضے کیلئے آگے بڑھ رہا تھا۔یہ ایک طویل جنگی معرکہ تھا جس نے ثابت کر دیا کہ ہتھیار ڈالے گئے تھے‘ جذبہ نہیں!
ہمارے ہاں ایک مشغلہ بن چکا ہے کہ ہر سیاسی ناکامی کا ذمہ دار ملک کے اداروں کو ٹھہرا دیا جائے۔ اب یہ سیاسی مجبوری کہہ لیں یا اپنا قد بڑھانے کی کاوش‘ بعض اوقات ملکی افواج کے خلاف کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ کر اپنی اہمیت بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے ہی ایک بار ملتان کے ایک سیاستدان کے گھر ہونے والی ایک تقریب میں جب جرنیلوں کے بارے میں ایک صاحب نے نامناسب کمنٹس دیے تو ان سے پوچھا کہ جب یہ جرنیل آئین توڑتے ہیں تو آپ جیسے لوگ ان کی طرف سے خیرات میں دی گئی وزارتیں کیوں قبول کرتے ہیں؟یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستانی فوج نے کارگل میں اور پھر ابھینندن کی صورت میں پورے بھارت اوراس کی فوج کے جرنیلوں کا غرور خاک میں ملا کر دنیا بھر کو دکھا دیا۔ پاکستان کی اس صریح فتح کو ہماری ہی ایک سیا سی جماعت کے رکن اور سابق سپیکر کی زبان سے چند فقرے کہلوا کر داغدار کرنے کی کوشش کی گئی۔ جوشِ محبت کہہ لیں یا جوشِ خطابت‘ یہ لوگ نجانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق کے 5 جولائی 1977ء کے مارشل لاء پر آج احتجاج کرنے والوں کے سیاسی کیریئر کی ابتدا اسی دور میں ہوئی تھی۔ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی بنائی گئی کابینہ میں وزرائے مملکت کی قطار میں پانچویں نمبر پر کھڑے یہی صاحب اُس وقت نوجوانوں اور طالبعلموں کے امور کی ایک نو تخلیق شدہ وزارت کا حلف اٹھا رہے تھے۔ آج کی نئی پود تو نہیں جانتی لیکن ملتان کے بزرگ شہری گواہ ہیں کہ جب چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر جنرل ضیا ء الحق نے 19 دسمبر1984ء کو ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا تو انہی صاحب نے چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر کے ریفرنڈم کے حق میں دن رات ''محنت‘‘ کرتے ہوئے اپنی وزارت کا خراج ادا کیا اور ''آئین کی پاسداری‘‘ کرتے ہوئے ووٹوں کے ڈبے بھر نے میں پوری طاقت صرف کر دی تھی۔
6 ستمبر 1965ء کو بھارتی فوج کا کمانڈر انچیف جنرل چودھری نئی دہلی میں میڈیا سے کہہ رہا تھا کہ ''اپنی فتح کا جشن منانے کیلئے آپ سب کو ساتھ لے کر آج شام چھ بجے لاہور کے جم خانہ کلب میں فتح کا جام پئیں گے‘‘۔ بھارتی فوج کے کمانڈر انچیف جنرل چودھری کا 'غرور‘ پاکستانی فوج کے جانباز افسروں اور جوانوں نے جنگ کے پہلے پانچ گھنٹوں میں خاک میں ملا دیا تھا۔ یہ غرور انہوں نے کس طرح توڑا اس کا ثبوت میں اپنے کسی قصے یا کہانی سے نہیں بلکہ بھارت کی دفاعی کونسل کے ممبر فرینک انتھونی کی زبانی پیش کروں گا۔
21 اپریل 1969ء کو‘ ستمبر پینسٹھ کی جنگ کے تین سال اور نو ماہ بعد‘ جب بھارتی لوک سبھامیں وزارتِ دفاع کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے تناظر میں جنگ ستمبر پر بحث ہو رہی تھی تو بھارت کے دفاعی کونسل فرینک انتھونی نے دفاعی کمیٹی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ''میں نے اپنی سرکاری اور پیشہ ورانہ حیثیت میں جنگ ستمبر کے ریکارڈ اور اعداد و شمار کا تحقیقی جائزہ لیا ہے جس سے کچھ ایسے حقائق سامنے آئے ہیں جو ہماری حکومت نے عوام اور ساری دنیا سے چھپا رکھے تھے‘‘۔ فرینک انتھونی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ''لاہور فرنٹ پر انڈین آرمی کی گیارہویں کور کے حملے کا ٹاسک واہگہ، باٹا پور اور بھینی کے مقام سے لاہور میں داخل ہونا تھا اور اس کور‘ جس کی کمان لیفٹیننٹ جنرل ہر بخش سنگھ کرر ہے تھے‘کے پانچ بریگیڈیئرز کو پاکستانی فوج نے اپنی بہادری اور مہارت سے چکرا کر رکھ دیا۔ ہم نے لاہور تو کیا لینا تھا‘ کھیم کرن بھی ہاتھ سے گنوا بیٹھے‘‘۔ ستمبر پینسٹھ کی جنگ کے تین سال اور نو ماہ بعد فرینک انتھونی‘ جو دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی ہند کی دفاعی کونسل کے ممبر بھی رہے‘ نے اپنی رپورٹ کے آخر میں لکھا ''اگر پاکستان اور بھارتی فوجی طاقت ایک جیسی ہوتی تو آج شاید ہم یہاں اس طرح نہ بیٹھے ہوتے‘ کہاں بھارت کی گیارہ لاکھ فوج اور کہاں پاکستان کی چار لاکھ فوج‘‘۔ لاہور کے ایک محاذ پربھارت کی ایک کور‘ جس میں واہگہ اٹاری سیکٹر میں پندرہ انفنٹری ڈویژن کے ساتھ پوری ٹینک رجمنٹ ، نمبر پچاس پیرا بریگیڈ، برکی سیکٹر میں ایک ڈویژن اور ایک ٹینک رجمنٹ کے علا وہ23 مونٹین ڈویژن شامل تھی اور جسے کور آف آرٹلری کی 300 توپوں کی مدد حاصل تھی‘ کو پاکستان کی صرف ایک ڈویژن کا سامنا تھا اور بھارتی کی تین سو توپوں کے مقابلے میں پاکستان کے پاس صرف 90توپیں تھیں ۔ باقی سب تاریخ ہے۔
پاک فوج کے ناقدین اور مخالفین کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ بھارت کے ہر ڈویژن کی دس پلٹنوں کے مقابلے میں پاکستان کے ایک ڈویژن میں صرف سات پلٹنیں تھیں۔ بھارت کی ایک پلٹن کی نفری بارہ سو اور پاکستان کی ایک پلٹن کی نفری سات سو تھی اور پاکستانی فوج کے افسروں اور جوانوں نے اﷲ اکبر کا ورد کرتے ہوئے صرف لاہور کے محاذ پر دشمن کی پینتیس ہزار فوج کے مقابلہ میں صرف 9 ہزار فوج سے بھارت اوراس کی ٹڈی دل فوج کے جرنیلوں کا وہ''غرور‘‘ خاک میں ملا دیا۔ اگر 1999ء میں کارگل میں بھارتی جرنیلوں کے غرور کی پاکستانی فوج کے ہاتھوں جو درگت بنی‘ اگر اس کی ایک جھلک دیکھنی ہے تو انڈین آرمی چیف جنرل وی پی ملک کی کتاب''From Surprise to Victory‘‘ پڑھ لیں یا پھر بل کلنٹن کے مشیر بروس ریڈل کی کتاب میں شامل‘ کارگل پر نواز شریف اور صدر کلنٹن کی ملاقات کا باب دیکھ لیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں