"MABC" (space) message & send to 7575

ہم، آپ اور ماحولیاتی تبدیلیاں

اس وقت پوری دنیا کو گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عالمی درجہ حرارت کو کم کرنے کا سب سے بہترین طریقہ شجر کاری اور توانائی کا کم سے کم استعمال ہے۔ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے‘ سال میں ایک مرتبہ ہفتۂ شجر کاری کا منایا جانا دیکھتے اور سنتے آ رہے ہیں۔ محکمۂ جنگلات اور محکمۂ زراعت کے اگر آج تک کے شجر کاری مہم کیلئے کیے جانے والے اخراجات اور درختوں کی حفاظت کیلئے رکھے گئے ملازمین اور افسران کے بجٹ کا عبوری جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں اربوں نہیں بلکہ کھربوں درخت نظر آنے چاہئیں لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ صرف کے پی میں ہی کچھ نئے جنگلات اور پودے دیکھنے کو ملیں گے۔ سیاسی اختلافات کی بنا پر شجرکاری جیسے مفید منصوبے کو بھی متنازع بنا دیا گیا ہے۔ عمران خان کی مخالفت میں کچھ لوگ کس حد تک عوامی بھلائی کے کاموں کی مخالفت کرتے ہیں‘ اس کا اندازہ اس دن ہو گیا تھا جب گوجرانوالہ سے ایک لیگی رکن اسمبلی نے بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت لگائے جانے والے پودوں کو اپنے ورکروں کے ذریعے رات کے اندھیرے میں یہ کہہ کر اکھاڑ دیا تھا کہ ان درختوں کے وجہ سے یہ علاقہ جنگل بن جائے گا، اور یہاں ڈاکوئوں کے مسکن بن جائیں گے جبکہ جنگلی درندے یہاں سے آبادیوں پر حملہ آور ہوا کریں گے۔ موصوف کا یہ بھی کہنا تھا کہ گوجرانوالہ نے چونکہ تحریک انصاف کو ووٹ نہیں دیے تھے‘ اس لیے یہاں کے عوام سے ''انتقام‘‘ لینے کیلئے گوجرانوالہ کو ''جنگل‘‘ اور ڈاکوئوں اور جرائم پیشہ افراد کے مستقل ٹھکانے میں بدلا جا رہا ہے۔ یہ دس‘ بارہ نہیں بلکہ 500 سے زیادہ قدِ آدم پودے تھے جنہیں کلہاڑیوں کے وار کرتے ہوئے جڑوں سے اکھاڑ پھینکا گیا تھا۔ یہ جہالت کسی ایک طبقے تک محدود نہیں ہے۔ وہ وڈیو بھی سب نے دیکھ رکھی ہو گی جس میں کالاباغ اور دیگر ڈیموں کی مخالفت میں دلائل دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ دریائوں پر ڈیم بنانا دراصل زراعت کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی سیاستدان صاحب ایک جلسے میں لوگوں کو بتا رہے تھے کہ جب دریائوں کے پانی پر بنائے گئے ڈیموں میں پانی سے بجلی بنائی جائے گی تو پیچھے ''پھوکا‘‘ پانی بچے گا، جس سے زمین کی فصلیں اگانے کی صلاحیت بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی، اس طرح کسان بھوکے مر جائیں گے۔ یہ دونوں طبقات اس جہالت کی نمائندگی کرتے ہیں‘ جو ہمارے ہاں قدم قدم پر پائی جاتی ہے اور جو معاشرتی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
زیادہ پیچھے نہیں جاتے‘ 2000ء سے ماہرین مسلسل متنبہ کر رہے ہیں کہ زمین کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا ذمہ دار انسان خود ہے۔ مائونٹ ایورسٹ کا سکڑتا حجم اور پگھلتے ہوئے گلیشیرز ایک عرصے سے دنیا بھر کو خبردار کر رہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ سائنس بھی مسلسل الارم بجا رہی تھی کہ بحر اوقیانوس اب مزید کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب نہیں کر سکتا۔ مغرب کے امیر ممالک کے پاس ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے وسائل اور مہارت باقی دنیا سے زیادہ ہے‘ وہ گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج کا جو حل پیش کرتے ہیں‘ تیسری دنیا کے غریب ملکوں کیلئے اس معیار پر پور اترنا ایک خواب ہی ہے۔ دیکھا جائے تو اس ماحولیاتی نقصان میں سب سے زیادہ حصہ انہی امیر ممالک کا ہے مگر نقصان بھگت رہا ہے افریقہ کا وہ کسان جو خشک سالی سے اپنی فصلوں یا ریتلے طوفانوں کی وجہ سے اپنے ریوڑ سے محروم ہو جاتا ہے یا انڈونیشیا اور فلپائن سمیت سندھ اور بلوچستان کی دریائی گزرگاہوں کے اردگرد رہنے والے انسان‘ جنہیں ہر وقت یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ ان کی بستیاں سمندری پانی میں نہ بہہ جائیں۔ یہ افراد ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں‘ ان کے لیے مگر کوئی بات نہیں کی جاتی۔
سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں نمیبیا نے ماحولیاتی تبدیلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا ''اس مسئلے کو ایک علمی بحث سمجھنے والوں کو کیا خبر کہ نمیب اور کالاہاری کے صحرا پھیلتے جا رہے ہیں‘ ہماری زرعی زمینیں تباہ ہو رہی ہیں اور ہمارے خطے میں انسانی آبادیوں کا نام و نشان مٹ رہا ہے۔ ہمارے لیے تو ماحولیاتی تبدیلیاں زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے‘‘۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاربن گیسز‘ جنہیں گرین ہائوس گیسز بھی کہا جاتا ہے‘ کا زیادہ تر حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر فضا میں میتھین گیس کی مقدار کو کنٹرول کر لیا جائے تو کرۂ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حررات پر نسبتاً کم وقت میں قابو پایا جا سکے گا۔ اس و قت تک کی تحقیق کے مطابق میتھین گیس گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ گزشتہ تین سو سالوں‘ یعنی صنعتی دور کے دوران کرۂ ارض میں اس کی مقدار میں 150 گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔
عمران خان حکومت کو کم از کم یہ کریڈٹ تو دیا جانا چاہیے کہ اس نے گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی استحکام کے لیے ایک منصوبہ متعارف کرایا۔ اندرونِ ملک اگرچہ اس کے خلاف ویسا ہی ردعمل آیا جیسا کسی سیاسی مخالف کے کسی منصوبے کے خلاف آتا ہے مگر عالمی سطح پر اس منصوبے کو نہ صرف سراہا گیا بلکہ کینیڈا اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے اس منصوبے کو بطور حوالہ بھی پیش کیا، حتیٰ کہ جولائی 2022ء میں امریکی حکام نے بھی اعلان کیا کہ وہ ''بلین ٹری‘‘ منصوبہ شروع کر رہے ہیں۔ امریکی محکمۂ زراعت کے مطابق مسلسل کئی سالوں سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں جنگلات کا جو نقصان ہوا‘ امریکہ میں اس کے صرف چھ فیصد ہی درخت لگائے گئے‘ اسی لیے اب 40لاکھ ایکڑ رقبے پر محیط امریکی جنگلات کی بحالی کے لیے اگلے دس سال میں ایک بلین سے زیادہ درخت لگائے جائیں گے جن پر 100 ملین ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔
گزشتہ سال آنے والے سیلابوں نے سندھ، جنوبی پنجاب، کے پی اور بلوچستان میں جو تباہیاں مچائی ہیں‘ ان کے اثرات اور تباہ کاریاں وہی جان سکتے ہیں جو ان سے گزر رہے ہیں۔ سبھی یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ سیلاب اور بارشیں موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان میں اچانک بارشوں اور پہاڑوں سے خوفناک سیلابی ریلوں کی آمد کو اقوام متحدہ نے بھی موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کو وارننگ دی کہ اگر ماحول کی درستی اور درختوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کی پہلے سے موجود تعداد کو کم از کم دو گنا نہ کیا تو دنیا خوفناک تباہی کی لپیٹ آ جائے گی۔ کس نے سوچا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے لندن جیسے بین الاقوامی شہر کو شدید گرمی کی لپیٹ کا سامنا کرنا پڑے گا اور امریکہ کی ایسی ریاستیں‘ جہاں درجہ حرارت 40 سے 45 ڈگری تک رہتا تھا‘ وہاں برفانی طوفانوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا؟ گزشتہ مہینے کے آخر میں امریکہ و کینیڈا میں برفانی طوفان کے سبب قیامت کا سماں تھا۔ کئی کئی دن تک وہاں نہ صرف پانی، بجلی اور گیس کی سپلائی بند رہی بلکہ خوراک اور ٹریفک کا نظام بھی خوفناک حد تک متاثر ہوا۔ اگر عالمی درجہ حرارت کا سب نے مل کر مقابلہ نہ کیا تو حیاتِ انسانی ایسی مشکلات کا شکار ہو جائے گی جو اپنے پیچھے سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نہیں چھوڑیں گی۔ آج دنیا پچیس برس پہلے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ توانائی استعمال کر رہی ہے جس کی وجہ معیارِ زندگی کا بلند ہونا ہے، اس سے لازمی طور پر توانائی کا استعمال بھی بڑھتا ہے لیکن اس کیلئے امریکہ سمیت یورپی دنیا کو چاہئے کہ وہ دنیا کو بتائیں کہ کس طرح انہوں نے گزشتہ تیس برسوں میں اندرونِ ملک استعمال ہونے والی تمام مشینری اور آلات کی کارکردگی کو محفوظ اور بہتر بنایا۔ البتہ اس ضمن میں امیر اور غریب ممالک کا فرق بھی پیشِ نظر رکھنا ہو گا۔ اس حوالے سے ایک تجویز یہ ہے کہ دنیا بھر میں کاربن ٹیکس کا نفاذ لازمی قرار دے دیا جائے۔ اس سے ہر شعبے کو یہ پیغام جائے گا کہ وہ توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کر دے۔ ''گرین ٹو گولڈ‘‘ کا مصنف ڈینیئل ایسٹی کہتا ہے کہ دنیا کو ٹرانسفارمیشنل اپروچ کو اپنانا پڑے گا جس سے متبادل توانائی کے لیے ترغیبات پیدا ہوں گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں