335ارب کا ریونیو شارٹ فال حکومت ،ایف بی آر کیلئے لمحہ فکریہ
حکومت وجوہات تلاش کرکے سدباب کرے ، لاہور میں ’’ٹیکس اور عوام‘‘ مذاکرہ شارٹ فال سے حجم بڑھنے کا خدشہ، منی بجٹ آسکتا ہے ، اسحاق بریار،عاشق علی و دیگر
لاہور(این این آئی)مہم جوئی کے باوجود مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 335ارب کا ریونیو شارٹ فال حکومت اور ایف بی آر کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ،چھ ماہ کے پہلے تین ماہ میں انکم ٹیکس ریٹرن اور دوسرے حصے میں کمپنیز کی ریٹرن فائلز ہوتی ہیں، جس میں ایف بی آر کو اچھا خاصا ریونیو ملتا ہے لیکن شارٹ فال ظاہر کر رہا ہے کہ اس کا حجم بڑھے گا، جس کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو منی بجٹ لانا پڑ سکتا ہے ، جو عوام کے لیے وبال جان ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار ماہر ٹیکس امور ،معاشیات و جنرل سیکرٹری انٹر نیشنل لائرز ایسوسی ایشن محمد اسحاق بریار ،صدر پنجاب چیپٹڑعاشق علی رانا ،سینئر نائب صدر ملک غلام حسین،فنانس سیکرٹری شیخ عدیل شاہد اور دیگر نے ‘‘ٹیکس اور عوام ’’مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
مقررین نے کہا کہ حکومت کو موجودہ حالات میں ریو نیو دینے والے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے ،سیاسی عدم استحکام ، زیادہ پیداواری لاگت اورٹیکسوں کی بھرمار سے کاروبار بند ہو رہے ہیں،بینکوں سے من مرضی کے آرڈر کے تحت رقوم نکلوائی جا رہی ہیں جس سے کاروباری طبقات میں پریشانی کی لہر دوڑ رہی ہے ،ٹیکس کے سخت قوانین نے کاروبار کرنا نہایت مشکل کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو شارٹ حکومت کیلئے مزید مشکلات پیدا کرے گا اس لئے حکومت اصل وجوہات تلاش کر کے ان کا سد باب کرے ۔