کراچی : 3 دہشتگرد گرفتار 2 ہزار کلو دھماکہ خیز مواد برآمد ہمسایہ ممالک میں نیٹ ورک : افغانستان تمام دہشتگرد تنظیمیں ختم کرے : پاکستان، چین کا مشترکہ اعلامیہ

کراچی : 3 دہشتگرد گرفتار 2 ہزار کلو دھماکہ خیز مواد برآمد ہمسایہ ممالک میں نیٹ ورک : افغانستان تمام دہشتگرد تنظیمیں ختم کرے : پاکستان، چین کا مشترکہ اعلامیہ

دہشتگردی کیخلاف عدم برداشت پالیسی اور سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق ،دنیا دہشتگردی کیخلاف لڑائی میں تعاون بڑھائے ، :پاک چین سٹریٹجک ڈائیلا گ،اسحا ق ڈار کی وطن واپسی تباہ کن دھماکا خیز مواد افغانستان سے اندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا،تانے بانے بشیر زیب، بی ایل اے ، فتنہ الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے جڑتے :سی ٹی ڈی افسروں کی پریس کانفرنس

اسلام آباد (نمائندہ دنیا،وقائع نگار)پاکستان اور چین نے مطالبہ کیاہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں خطے اور عالمی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہیں جو دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کررہی ہیں ،افغانستان ان تما م دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرے ۔پاکستان اور چین نے دہشتگردی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی اور دو طرفہ سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ،گزشتہ روز بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ ی ی اور نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ اسحاق ڈار کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے ساتویں پاک چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق چین کی دعوت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 3 سے 5 جنوری تک چین کا دورہ کیا، پاک چین وزرائے خارجہ ملاقات میں جنوبی ایشیا میں امن، یکطرفہ اقدامات کی مخالفت اور تنازعات کے حل پر زور دیا گیا ہے اور مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔

سٹریٹجک ڈائیلاگ میں افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پر پاکستان کا موقف تسلیم کیا گیااوراتفاق کیاگیاکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کیلئے مصدقہ اقدامات ہونے چاہئیں ۔اعلامیہ میں افغانستان سے کہا گیا ہے کہ اپنے علاقوں میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کیلئے واضح اور قابل تصدیق اقدامات کرے اور یقینی بنائے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کریں۔ افغان مسئلے پر دونوں ممالک کا رابطے اور بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔

مذاکرات میں پاک چین تعلقات، دفاعی و سکیورٹی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں ممالک نے اسٹریٹجک رابطے بڑھانے اور باہمی اعتماد مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا، اس کے علاوہ چین اور پاکستان نے 2026 میں سفارتی تعلقات کے 75سال مکمل ہونے کی تقریبات شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔پاک چین مذاکرات کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو نسل در نسل منتقل کرنے اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا اور پاک چین آہنی برادرانہ اور آل ویدر اسٹریٹجک تعلقات کی توثیق کی گئی، اس کے علاوہ سی پیک 2، زراعت، معدنیات اور گوادر پورٹ پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پاکستان اور چین نے خلائی تعاون میں پیشرفت اور پاکستانی خلابازوں کی چینی خلائی سٹیشن میں متوقع شمولیت پر بھی اتفاق کیا۔پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے تحت، تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرۂ چین پر چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ چین نے پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون کا اعلان کیا۔ پاکستان نے ایک چین کے اصول پر اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے ۔ پاکستان نے چین کی قومی وحدت کیلئے تمام کوششوں کی حمایت کی اور تائیوان کی علیحدگی، دو چین یا ایک چین، ایک تائیوان کے کسی بھی تصور کی مخالفت کی۔ اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں چین، بنگلہ دیش اورپاکستان کے درمیان تعاون کا طریقہ کار طے کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں تعاون بڑھائے ،دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی اقدامات پر عالمی دوہرے معیار کی مخالفت کا بھی اظہار کیا۔ چین نے عالمی اور خطے کے امور میں پاکستان کے اہم اور موثر کردار کی حمایت کا اعادہ کیا۔

پاکستان اور چین نے دہشت گردی کیخلاف تعاون مزید مضبوط کرنے اور سی پیک بلارکاوٹ آگے بڑھانے جبکہ دفاع ، معیشت ، تجارت میں دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری اور ثقافتی روابط بڑھانے پربھی اتفاق کیا ۔ دونوں ممالک نے 2025سے 2029 کے تعاون کے حوالے سے معاہدہ پر عمل کرنے کا بھی اعادہ کیا۔مشترکہ مفادات کے تحفظ ، سماجی و اقتصادی ترقی اور دنیا میں امن و خوشحالی کے فروغ کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ دونوں ممالک نے سرحد پار آبی وسائل میں تعاون اور عالمی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادگی اورخلائی تعاون میں پیشرفت اور پاکستانی خلا بازوں کی جلد چینی خلائی سٹیشن میں شمولیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تعاون بڑھانے ،اہم شعبوں ،انڈسٹری ،زراعت اور کان کنی میں تعاون بڑھانے ، گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور فعال کرنے ،قراقرم ہائی ویز گزرگاہ، پائیدار ترقی کیلئے پاکستان کی صلاحیت بہتر بنانے ، سرمایہ کاری ،آئی ٹی ،سائنس اور ٹیکنالوجی ،سائبر سکیورٹی ،فنی اور پیشہ ورانہ تربیت ،تعلیم میں تعاون اور عوامی رابطہ بڑھانے پر اتفاق کیاگیا ۔

دونوں ممالک کا خنجراب پاس کوکھولنے پر بھی اتفاق ہوا اور سی پیک میں تیسرے فریق کی شمولیت کا بھی خیر مقدم کیا گیا ۔ دونوں ممالک نے اگلے سال اسلام آباد میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے اگلے دور کے انعقاد پر اتفاق کیا۔نائب وزیراعظم اوروزیرخارجہ دورہ چین سے گزشتہ روز واپس وطن پہنچ گئے ،انہوں نے گزشتہ روز بیجنگ میں پاکستان کے سفارتخانے کا دورہ کیا اورسفارتخانے کی ازسرِ نو تزئین شدہ عوامی جگہوں کا معائنہ کیا ۔اسحاق ڈار نے چائنا من میٹلز کارپوریشن کے نائب صدرشو جی چِنگ کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات بھی کی۔ بعدازاں اسحاق ڈار کا انڈونیشیا کے وزیر خارجہ ہی سوگیونو سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ،دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور او آئی سی سمیت کثیرالجہتی فورمز پر تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ 

کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی مصدقہ اطلاعات پر بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کے دوران 2 ہزار کلوگرام سے زائد تباہ کن بارودی مواد برآمد کرلیاگیاجبکہ 3دہشتگرد گرفتار کئے گئے ۔انکا نیٹ ورک ہمسایہ ممالک میں ہونے کا انکشاف ہوا ۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن ریٹائرڈ غلام اظفر مہیسر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلدیہ رئیس گوٹھ میں قائم ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے ایک خودکش بمبار کو گرفتار کیا گیا ، گرفتار دہشت گرد سے تفتیش کے بعد ایک اور کامیابی ملی، گزشتہ رات 2 مزید دہشت گرد گرفتار کر لئے گئے ،جن میں جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش، حمدان عرف فرید ولد محمد علی شامل ہیں۔

برآمد شدہ دھماکا خیز مواد کو شہر سے باہر حب کے علاقے میں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا، 2 ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد کی برآمدگی سے بے شمار قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔ دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔ کارروائی کے دوران مزدا ٹرک، 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور 5 دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیے گئے ۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد افغانستان سے اندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا۔شواہد کے مطابق نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ انڈین مفادات کے تحت کام کرنے والے دہشت گرد گروہ اس منصوبے کے پیچھے تھے ۔ بھارتی پراکسیز بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی ہیں۔

دہشت گرد نیٹ ورک کے تانے بانے بشیر زیب، بی ایل اے ، فتنہ الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے جوڑنے کے شواہد ہیں۔ بلدیہ رئیس گوٹھ سے دھماکا خیز مواد برآمد ہونے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ میں درج کرلیا گیا، جس میں انسداد دہشت گردی اور ایکسپلوزو ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے کے متن کے مطابق خفیہ اطلاعات پر حب ریور روڈ رئیس گوٹھ میں گھر پر چھاپہ مارا گیا تو ملزم جلیل عرف نوید گرفتار جبکہ دیگر ساتھی فرار ہو گئے ، کمپاؤنڈ میں ٹرک سے دھماکا خیز مواد سے بھرے پلاسٹک کے ڈرم اور سلنڈر ملا، یہ مواد ڈیٹونیٹر اور ڈیڈ کور وائر سے منسلک تھا۔ فارنزک ٹیسٹ پر پتا چلا کہ بارودی مواد 2 ہزار کلو گرام ہے ، ٹرک کی تیاری کا مقصد کراچی میں دہشت گردی کرنا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں