امریکی دھمکی، احتجاجی مظاہرے، خامنہ ای کا ماسکو روانگی کا پلان
سکیورٹی فورسز کی ناکامی پر ملک چھوڑ دینگے ،رقم جمع کی جارہی:برطانوی میڈیا پراپیگنڈا نیٹ ورک متحرک،دشمن من گھڑت دعوے کر رہا ہے :ایرانی سفیر
تہران،اسلام آباد (دنیا مانیٹرنگ،نیوز ایجنسیاں) ایران میں حکومت مخالف احتجاج بڑھنے اور امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرہ کے باعث ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے پلان بی تیار کرلیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق بدترین صورتحال میں خامنہ ای نے ماسکو روانگی کا پلان بی تیار کر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر سکیورٹی فورسز احتجاج پر قابو پانے میں ناکام ہوئیں یا وفاداری چھوڑ دی تو خامنہ ای اپنے قریبی حلقے، اہل خانہ اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای سمیت ایران چھوڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے خامنہ ای نے تہران سے نکلنے کے ممکنہ راستوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور محفوظ انخلا کے لیے بیرونِ ملک جائیدادیں، اثاثے اور نقد رقم بھی جمع کی جارہی ہے ۔ پاکستان میں ایرانی سفیر نے کہاہے کہ ایک بار پھر دشمن کا پراپیگنڈا نیٹ ورک متحرک ہو گیا ہے ، رضا امیری مقدم نے جھوٹے اور مضحکہ خیز الزامات کو یکسرمسترد کردیا اور کہا سپریم لیڈر عوام اور ملک کی چوکنا سکیورٹی فورسزکے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ رضا امیری مقدم کا کہناتھا دشمن سپریم لیڈر کے متعلق جعلی، من گھڑت اور بے بنیاد دعوے کر رہا ہے، اس نوعیت کی گمراہ کن مہمات دراصل دشمن کی مایوسی کا مظہر ہیں،ایرانی سفیر نے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی رائفل تھامے تصویر بھی جاری کر دی۔
ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی کا کہنا ہے کہ ملک میں فساد کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے ، انہوں نے اٹارنی جنرل اور پراسیکیوٹرز کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ قانون کے مطابق اور پوری سختی کے ساتھ فسادیوں کے خلاف کارروائی کریں، کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہ دکھائیں،انکا کہنا تھا کہ مظاہرین اور ان کی تنقید کو سنا جاتا ہے لیکن ان میں اور فسادیوں میں فرق ہوتا ہے۔ ایران میں آٹھ روز سے مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں سے 31 میں سے 25 صوبے متاثر ہیں،مظاہروں میں کم ازکم 20 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوچکے۔ ایک ہزار سے زیادہ مظاہرین گرفتار بھی ہیں جبکہ حکومت نے انٹرنیٹ تک رسائی محدود کردی ہے ۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل نے کہا کہ صہیونی حکومت ہر ممکن موقع سے فائدہ اٹھا کر ہمارے درمیان انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے ،ہمیں چوکس رہنا ہوگا۔