سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ ختم نہیں کیا جا سکتا، افتخار ملک
بھارت کی جانب سے پانی بندش جنگی اقدام ہوگا، سابق صدر سارک چیمبر
لاہور(اے پی پی)سارک چیمبر کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ اگر بھارت پاکستان کے حصے کے پانی میں کسی قسم کی کمی کرتا ہے تو یہ جنگی اقدام کے مترادف ہوگا اور پاکستان کو اس خلاف ورزی کے جواب کا مکمل حق حاصل ہے ، بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے ۔ جمعرات کو خصوصی گفتگو کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے بھارت کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر معطل، توڑ یا تبدیل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں جان بوجھ کر ردوبدل کرنے سے پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ اور علاقائی امن پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔