ترکیہ، آذربائیجان پر حملے قابل مذمت ،کشیدگی مزید پھیلے گی : شہباز شریف
ملائیشیا، انڈونیشیا کی قیادت کو فون، رابطوں پر اتفاق، حافظ نعیم کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کو بریفنگ زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے ملکی معیشت کے اہم ستون ،ایگریکلچر روڈ میپ کیلئے مشاورت موثر بنائیں:وزیراعظم
اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ترکیہ اور آذربائیجان پر حملے قابل مذمت ہیں ،ایسے اقدامات سے مزید کشیدگی اور علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے ۔وزیراعظم نے ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کو فون کر کے ایران کے خلاف اسرائیل کے حملوں اور برادر خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہارکیا ۔ انہوں نے انوار ابراہیم سے ٹیلیفونک بات چیت میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون میں درج تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور فر یقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، دشمنی ختم کریں اور اپنے اختلافات کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ امن کی بحالی اور معاملات کو معمول پر لانا انتہائی ضروری ہے ، لیکن یہ تمام فریقین کی جانب سے زیادہ سے زیادہ تحمل کے استعمال سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے مل کر کام کرنے اور اپنے مؤقف کو مستقل بنیادوں پر مربوط کرنے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر اعظم انور ابراہیم کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے خاص طور پر خطے اور اس سے باہر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کو دہشت گرد عناصر کے خلاف محفوظ بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے باہمی دلچسپی کے تمام امور پر قریبی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ دریں اثنا انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کے ساتھ ساتھ دوسرے برادر خلیجی ممالک پر بعد میں ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے انڈونیشیاکے صدر کو بحران کے تناظر میں تمام خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے سفارتی رابطے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے تمام فریقین پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دینے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ تمام معاملات کو تعمیری بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے مخلصانہ اور سنجیدہ اقدامات پر زور دیا۔ ٹیلی فون کال کے دوران وزیراعظم نے صدر پرابوو سوبیانتو کو افغانستان کے حوالے سے حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔علاوہ ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران سے پاکستانیوں کے انخلاء اور خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ایران سے پاکستانیوں کے انخلا کیلئے برادر ملک آذربائیجان کی مدد کے مشکور ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خلیجی ممالک میں پاکستانی سفارتخانے پاکستانی شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کیلئے ہر دم میسر رہیں۔وزیراعظم نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے ) کی کار کردگی پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا این ایچ اے کے ٹول پلازوں کی اوپن اور شفاف انداز سے نیلامی ایک احسن اقدام ہے ، انہوں نے این ایچ اے کی آمدنی میں اضافے ، موٹر ویز اور ہائی ویز پر حفاظتی اقدامات پر مؤثر طور سے عملدرآمد، سروس ایریاز کی بہتری اور دیگر اقدامات پر وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان اور انکی ٹیم کو سراہا۔وزیراعظم سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں وفد نے بھی ملاقات کی جس میں امیر جماعت اسلامی کو افغانستان، ایران اور مشرق وسطیٰ و خلیج کے موجودہ حالات پر ان کیمرابریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی ملاقات کی اس دوران موجودہ سیاسی صورتحال اور خیبر پختونخوا کے حوالے سے امور پر گفتگوہوئی۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے امور پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے ملکی معیشت میں اہم ستون کا درجہ رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے ایگری کلچر روڈ میپ کے حوالے سے صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں سے مشاورت کا عمل مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے چین سے زرعی تحقیق کے حوالے سے تربیت حاصل کرنے والے سکالرز سے پاکستانی زرعی شعبے میں ریفارمز کے حوالے سے مشاورت اور ان سے رابطہ رکھنے کی ہدایت بھی کی۔