گیس اور پٹرول کی بچت کیلئے ایکشن پلان وزیراعظم کو پیش، آج اہم فیصلے
تیل قیمتوں کے ہفتہ وارتعین، صنعتوں کی گیس بند ش،گھر سے کام پرمشاورت مکمل،کھاد کمپنیوں کی گیس بند، گھریلوصارفین کو سحرو افطار سمیت 12 گھنٹے گیس ملے گی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج طلب،پٹرول ، ڈیزل کے وافر ذخائر ،فوری قلت کا خدشہ نہیں:وزیر خزانہ ،قطر سے ایل این جی کی فراہمی بند ،پاکستان کو آگاہ کردیا گیا
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)جیوپولیٹیکل ٹینشن کے باعث پٹرولیم مصنوعات سٹاک اور کھپت پر ہائی پاورڈ کمیٹی نے گیس اور پٹرول کی بچت کیلئے اہم تجاویز پر مشتمل قومی ایکشن پلان تیار کر کے وزیراعظم کو ارسال کر دیا جس پر وزیراعظم کی جانب سے آج منظوری دئیے جانے کا امکان ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل ہفتہ وار بنیادوں پر کرنے کیلئے وزیرخزانہ کی زیرصدارت آج اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیاگیا ۔ پاکستان میں توانائی بچت پلان کی تیاری شروع کردی گئی، پٹرولیم نرخوں کا ہفتہ وار جائزہ لینے پر غور، قیمتیں عالمی مارکیٹ کے تحت ایڈجسٹ ہونگی، ہفتے میں دو دن آن لائن کام کرنے پر بھی غور کیا جارہاہے ، تعلیمی اداروں کے آن لائن سیشن ہونگے ، تجاویز پر وزیراعظم کو بریفنگ دے دی گئی۔ بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل ٹینشن کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی کھپت، سٹاک سے متعلق اہم تجاویز تیار کی گئی ہیں، وزارت توانائی کی سمری پر اقتصادی رابطہ کمیٹی سے ہفتہ وار بنیادوں پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی منظوری کا امکان ہے۔
صوبائی چیف سیکرٹریز کو بھی اعلیٰ سطح کمیٹی کی جانب سے اعتماد میں لیا گیا۔ پلان میں شامل کیا گیا ہے کہ سپلائی میں خلل طویل ہو جائے تو طلب کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کیلئے ہنگامی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے جبکہ ترجیحی شعبوں کو تحفظ دیا جائے گا ۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت تیل کی سپلائی چین سے متعلق اجلاس میں بتایا گیا کہ ابھی تک پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور فوری قلت کا کوئی خدشہ نہیں ،خطے کی بدلتی صورتحال کے باعث توانائی کی فراہمی پر مسلسل نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، فریٹ اور انشورنس اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکومتی کمیٹی آج حتمی سفارشات اور جامع عملدرآمد پلان وزیراعظم کو پیش کرے گی ۔اجلاس میں ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ روکنے کیلئے سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی حکومتوں، اوگرا اور دیگر اداروں کے درمیان مشترکہ کارروائی پر اتفاق کیا گیا ۔متبادل سپلائی روٹس اور دوست ممالک سے اضافی تیل کی فراہمی کیلئے رابطے بھی جاری ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق کمیٹی نے مختلف سپلائی اور قیمتوں کے ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ملکی توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھا جا سکے ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں جنگی خطرات کے باعث اضافی اخراجات اور ایشیائی منڈیوں میں توانائی کارگو کیلئے بڑھتی مسابقت بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ تیل کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے متبادل ذرائع اور لاجسٹک انتظامات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے ۔ دوست ممالک اور شراکت دار سپلائرز کے ساتھ سفارتی اور تجارتی رابطوں کے ذریعے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی اضافی سپلائی حاصل کرنے کے امکانات پر بھی کام جاری ہے جبکہ خطرناک سمندری راستوں کے علاوہ دیگر بندرگاہوں اور روٹس کے استعمال کے آپشنز بھی زیر غور ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جہازوں کی بروقت برتھنگ اور قومی شپنگ صلاحیت کے استعمال جیسے اقدامات پر بھی غور کیا گیا تاکہ سپلائی میں تاخیر کم کی جا سکے ۔ وزیر خزانہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔
تمام پالیسی اور انتظامی فیصلوں میں اسی پہلو کو بنیادی حیثیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کر رہی ہے اور مختلف ممکنہ حالات کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث دباؤ پیدا ہوا تو حکومت طے شدہ اور شفاف طریقہ کار کے تحت اقدامات کرے گی تاکہ مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے ۔ اجلاس میں ایل این جی اور ایل پی جی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں سپلائی چین کے خطرات، جہازوں کی آمدورفت کے شیڈول اور ٹرمینل آپریشنز پر غور کیا گیا۔ ارکان نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ اگر سپلائی میں خلل طویل ہو جائے تو طلب کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے ہنگامی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے جبکہ ترجیحی شعبوں کو تحفظ دیا جائے گا۔
کمیٹی نے ایندھن کے ممکنہ بچاؤ کے اقدامات پر بھی غور کیا جنہیں ماضی میں قومی ہنگامی حالات کے دوران نافذ کیا گیا تھا تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی اقدام کے حوالے سے عوامی آگاہی کو محتاط انداز میں ترتیب دیا جائے تاکہ غیر ضروری تشویش پیدا نہ ہو۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی اپنی حتمی سفارشات آج مرتب کر کے وزیر اعظم کو پیش کرے گی جن میں سپلائی کے تحفظ، نگرانی کے اقدامات، قیمتوں کے نظام اور ممکنہ بچت اقدامات پر مشتمل جامع عملدرآمد منصوبہ شامل ہوگا ۔کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ بدلتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ ذخائر، سپلائی چین اور مارکیٹ کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا سکے ۔
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے پیش نظر جہاں دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات اور گیس کے بحران کا خدشہ ہے وہیں پاکستان کے بھی اس کا شکار ہونے کا خدشہ ہے ۔ اسی بابت 2 مارچ کو وزیر خزانہ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے ملک میں انرجی سیکٹر سے متعلق تمام تر تجاویز پر کام مکمل کر لیا ہے ۔ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، توانائی کی بچت، پٹرولیم اور گیس کی بلا تعطل فراہمی کے منصوبے اور ملک میں توانائی بحران سے بچنے کے لیے تجاویز تیار کی ہیں۔اس کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا جس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف کریں گے اور وزیر اعظم سفارشات کی منظوری دیں گے ۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار جو اس کمیٹی کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ دنیا کو بتایا کہ کمیٹی کی سفارشات پر غور کر لیا جائے گا۔
کمیٹی کی ایک بڑی سفارش یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جائے تاکہ عالمی مارکیٹ کا امپیکٹ براہ راست عوام کو منتقل کیا جا سکے ۔ پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر پندرہ دن بعد ہوتا تھا۔اس کے علاوہ ایل این جی کی قلت کے باعث کھاد کارخانوں کو گیس کی فراہمی منقطع کی گئی ہے لیکن دیگر انڈسٹری کو گیس دینی ہے یا نہیں اور اگر صنعتی شعبے کو گیس فراہم کرنی ہے تو کتنی کرنی ہے ، اس سے متعلق بھی فیصلہ متوقع ہے ۔اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز اور دفتری کام گھر سے کرنے کی تجویز پر بھی فیصلہ متوقع ہے تاکہ لوگ زیادہ نہ نکلیں اور توانائی کی بچت کی جا سکے ۔ اسی طرح دیگر تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا اور ان کے فیصلے کیے جائیں گے ۔یہ اعلیٰ سطح کابینہ کمیٹی 2 مارچ کو تشکیل دی گئی تھی تاکہ توانائی مارکیٹ کی نگرانی مزید سخت کی جائے اور توانائی کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ سٹاک کا جائزہ لیا جائے۔
کمیٹی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت بنائی گئی تھی جس میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک،متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام شامل تھے ۔ علاوہ ازیں مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے باعث پاکستان میں بھی گیس بحران سے نمٹنے کے لیے گیس کی فراہمی کے شیڈول میں تبدیلی لائی گئی ہے ۔ گیس کمپنیاں صارفین کو اب 24 گھنٹے گیس فراہم نہیں کریں گی ۔ سوئی کمپنیوں نے شیڈول میں تبدیلی کر دی ۔ صارفین کو سحر اور افطار کے وقت گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔ افطار کے لیے گیس دوپہر 3 بجے تا رات ساڑھے 9 تک کھلے گی جبکہ سحری کے لیے گیس صبح 3 تا 9 بجے صبح تک کھلے گی۔
اس کے علاؤہ دیگر اوقات میں گیس بند ہوگی یا پریشر انتہائی کم ہوگا تاکہ گیس کی بچت کی جاسکے ۔ اس کے علاوہ کھاد کی صنعتوں کے لیے گیس کی فراہمی بند کی گئی ہے جبکہ دیگر صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی کم کی جائے گی اس کا فیصلہ آج وزیر اعظم کابینہ کمیٹی کی سفارشات کو مد نظر رکھ کرینگے ۔ پاکستان مقامی گیس کے علاوہ ماہانہ دس ایل این جی کے کارگورز درآمد کرتا ہے ۔ اس میں نو کارگوز قطر سے معاہدے کے تحت لیے جاتے ہیں اور ایک کارگو ای این آئی سے منگوایا جاتا ہے ۔ جنگی صورتحال کے باعث قطر سے ایل این جی کی فراہمی بند ہوچکی ہے جس وجہ سے قلت کا سامنا ہے ۔ قطر نے پاکستان کو گیس کی عدم سپلائی کے بارے میں آگاہ کردیا ۔ قطر سے مارچ کے اب تک صرف 2 ہی کارگوز آئے ہیں۔ موجود صورتحال کے پیش نظر پاکستان کو موجود اوقات میں لوڈ مینجمنٹ کرنی پڑے گی۔