بگرام میں اہم ٹارگٹ حاصل، افغان طالبان کی ایمونیشن سپورٹ کا انفرااسٹرکچر تباہ
’’ ‘آپریشن غضب للحق‘‘جاری ،قندھار میں 205 کور کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ ،41 ٹھکانوں کو نشانہ بنا یا گیا افغانستان ایمپائرز کا پلے گراؤنڈ ، فتح کرنے کا ارادہ نہیں،بگرام میں کارروائی کسی بیان پر نہیں کی،سکیورٹی حکام
اسلام آباد،راولپنڈی(خصوصی نیوز رپورٹر،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)پاک فوج کی ’’آپریشن غضب للحق ‘‘کے تحت افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں تیز ، 41 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں، کامیاب فضائی کارروائی کے دوران بگرام میں اہم ٹارگٹ حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ قندھار میں افغان طالبان کے 205 کور کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر کوبھی تباہ کردیا ،سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے 4 اور 5 مارچ کی درمیانی شب کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی مجموعی طور پر 41 پوسٹوں کو چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا،یہ کارروائیاں چمن سیکٹر، ژوب سیکٹر، قلعہ سیف اللہ اور نوشکی سیکٹر سے ملحقہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کی گئیں۔
مخالف عناصر کو بھاری جانی و مالی نقصانات پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ سرحدی علاقوں میں نگرانی اور آپریشنل سرگرمیوں کو مزید مو ثر بنایا جا رہا ہے ۔دریں اثناء پاک فوج نے کامیاب فضائی حملے کے دوران قندھار میں افغان طالبان کے 205 کور کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو تباہ کرنے کے ساتھ طالبان کے ایمونیشن ڈپو کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں انہیں بھاری فوجی نقصان اٹھانا پڑا۔ علاوہ ازیں ارندو سیکٹر میں بھی پاک فوج نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر افغان طالبان کی ایک مسلح تشکیل کے خلاف کامیاب کارروائی کی،بھرپور کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان اپنے ٹھکانوں پر اسلحہ چھوڑ کر فرار ہو گئے جبکہ ان کا مرکز مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
ادھر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو آپریشن غضبُ للحقکے تناظر میں انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر)میں منعقدہ اہم نشست میں بریفنگ دیتے ہوئے سینئر سکیورٹی حکام نے بتایا کہ افغان طالبان کی موجودہ حکومت خطے میں دہشت گردی کی ایک مرکزی پراکسی ماسٹرکے طور پر کام کر رہی ہے ، متعدد دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری کے باعث علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ بن چکی ،آپریشن غضبُ للحق دراصل پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا تسلسل ہے ، یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک افغان طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے خاتمے کی قابلِ یقین ضمانت اور عملی اقدامات نہیں اٹھاتی، پاکستان کے اندر بھی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز)جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر 200 سے زائد کامیاب کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
سینئر سکیورٹی حکام نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغانستان یا افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں، افغان طالبان حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی جاری رکھے گی، فتنہ الخوارج اسلام کی مسخ شدہ اور خودساختہ تشریح کو فروغ دے رہا ہے ، حالانکہ اسلام کا دہشت گردی اور خودکش حملوں سے کوئی تعلق نہیں ۔سکیورٹی حکام نے بتایا کہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں، سہولت کاری کے مراکز اور سرحد کے قریب قائم لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنا رہا ہے ، تمام کارروائیاں مصدقہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر صرف دہشت گردوں کے مراکز کے خلاف کی جا رہی ہیں اور سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔
سکیورٹی حکام کے مطابق بعض افغان سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ان کے بھارتی سرپرست میڈیا کی جانب سے آپریشن کے حوالے سے جھوٹی اور من گھڑت افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، تاہم وزارت اطلاعات اور سکیورٹی ادارے شفاف رپورٹنگ کے تقاضوں کے مطابق میڈیا اور عوام کو باقاعدگی سے آپریشن کی پیش رفت سے آگاہ کر رہے ہیں،افغان طالبان حکومت کے زیر عتاب طبقات بھی آپریشن غضبُ للحق کو خوش آئند پیش رفت قرار دے رہے ہیں جبکہ پاکستان اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے اور تمام ممالک کے ساتھ تعمیری اور مثبت روابط پر یقین رکھتا ہے ۔سکیورٹی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی اتحاد اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے ۔ادھر سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف 56 سٹرائیکس کی جا چکی ہیں،جہاں سے دہشت گردی ہو رہی ہے انہی جگہوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں، دہشتگردی کے ہر واقعے کے پیچھے افغان رجیم شامل ہے ، یہ جنگ افغان عوام کے خلاف نہیں،افغان فورسز براہ راست ٹی ٹی پی کی تشکیل کو سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان رجیم دہشتگردوں کو سہولت اور تحفظ فراہم کر رہی ہے ، بگرام سمیت مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ۔ ترلائی مسجد، وانا کیڈٹ کالج اور باجوڑ حملوں میں افغان دہشتگردوں کے شواہد ملے ، پاکستان نے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تو افغان سائیڈ سے 55 مقامات پر حملے کئے گئے ۔پاکستانی فورسز 36 پوسٹوں پر قبضہ کر چکی ہیں، سرحدی علاقوں میں دہشتگردی کے ساتھ کرمنل نیٹ ورک بھی سرگرم تھا، پاکستان کسی ملک پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق بنوں میں بچی پر تشدد کا واقعہ انتہا پسندی کی بدترین مثال ہے ، ایسے عناصر کے خلاف کھڑے ہونا ہی اصل جہاد ہے ،صوبائی ایپکس کمیٹی اہم سکیورٹی معاملات کا جائزہ لے رہی ہے ، مدارس رجسٹریشن، اصلاحات اور غیرقانونی افغان باشندوں کی واپسی پر عملدرآمد جاری ہے ، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ریاستی اقدامات مزید سخت کئے جا رہے ہیں۔
افغانستان میں کس نوعیت کی حکومت ہو گی اس کا فیصلہ افغان عوام کریں گے ، موجودہ افغان نظام دہشتگردوں کو فروغ دے رہا ہے ، اسلام کے نام پر دہشتگردی کو فروغ دینے کی مذمت کرتے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے تو دہشتگردی ختم کر سکتی ہے ، جب تک افغان حکومت واضح فیصلہ نہیں کرتی آپریشن جاری رہے گا ، سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے عوام اور قیادت فورسز کی قربانیوں پر افسردہ مگر پُرعزم ہیں، پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے بگرام میں اپنا ٹارگٹ حاصل کرلیا، افغان طالبان کی ایمونیشن سپورٹ کا انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا۔سکیورٹی ذرائع نے کہا ہم نے کسی بیان پر کارروائی نہیں کی بلکہ اپنا ٹارگٹ حاصل کیا، اہداف کے حصول تک افغانستان میں ٹارگٹ کرتے رہیں گے ۔ذرائع نے کہا افغانستان ایمپائرز کا قبرستان نہیں پلے گراؤنڈ ہے ، ایمپائرز افغانستان آتے ہیں اور اپنا کھیل کھیلتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی سے دھمکیوں کے پرچے جاری کروائے جارہے ہیں، افغانستان ماسٹر پراکسی بن گیا ہے ۔سکیورٹی ذرائع نے کہا ہمارا افغانستان کوفتح کرنے کاکوئی ارادہ نہیں، افغان عوام رجیم چینج کا خود فیصلہ کریں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان کو دو ٹوک جواب دیا ہے کہ ٹی ٹی پی لیڈرشپ ہمارے حوالے کرو۔