ایران میری مرضی کا لیڈر لائے : خامنہ ای کے بیٹے کو قبول نہیں کرتے : ٹرمپ
ریاض میں مغربی سفارت کاروں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت ،ابو ظہبی میں ڈرون کے ملبے سے پاکستانیوں سمیت6 زخمی ،دبئی میں عالمی صحت کا مرکز بند ،خلیج میں حملوں سے تیل کے 2 جہاز تباہ امریکا آبنائے ہرمز سے جہاز نکلوا سکتا ہے تو آ کر دکھائے :پاسداران انقلاب ،ایران نے آذربائیجان کیساتھ سرحد بند کردی، پاکستانیوں کو انتظار کی ہدایت ، اسرائیلی حملوں سے لبنان میں 10 افراد شہید
واشنگٹن ،تہران (نیوز ایجنسیاں) امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اب قبرص ، سری لنکا، ترکی اور آذربائیجان تک پھیل گئی ہے اور خدشہ ہے کہ مزید ممالک اس تنازع میں شامل ہو سکتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو زور دیا کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں امریکا کی رائے ہونی چاہئے ، ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں امریکا کا کردار ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا ان کے والد کا جانشین بننا ان کیلئے قابل قبول نہیں اور وہ انہیں ایک کمزور شخصیت قرار دیتے ہیں۔ٹرمپ نے انٹرویو میں کہاکہ مجھے اس تقرری میں شامل ہونا ضروری ہے جیسا کہ وینزویلا میں ہوا، جہاں عبوری صدر ڈیلسی رودریگز نے امریکی مداخلت کے تحت تعاون کیا۔ یہ جنگ عالمی طاقتوں کو بھی شامل کر چکی ہے ، جس سے شپنگ میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں اور توانائی کی مارکیٹیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ایران کے ایک ڈرون کے ذریعے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد آذربائیجان نے خبردار کیا کہ اس کا لازمی جواب دیا جائیگا ، جس سے خدشہ ہے کہ ایک اور ملک جنگ میں شامل ہو سکتا ہے ۔ایران نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی اور اسرائیل پر الزام لگایا لیکن صدر الہام علی یوف نے تہران کو دہشت گردی کا مرتکب قرار دیا۔ آسٹریلیا نے جنگ زدہ علاقے میں دو فوجی طیارے بھیج دئیے جبکہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ وہ یہ امکان خارج نہیں کر سکتے کہ ان کی افواج بھی جنگ میں شامل ہوں۔ نیٹو رکن ملک ترکی بھی اس تنازع میں گھس گیا، جب نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی طرف بھیجے گئے میزائل کو تباہ کر دیا۔ایک ترک اہلکار کے مطابق میزائل بظاہر قبرص میں برطانوی اڈے کو نشانہ بنانے کیلئے تھا لیکن ترکی نے پھر بھی ایران کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کے بعد یورپی ممالک نے قبرص کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اپنے بحری اثاثے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیٹو نے اعلان کیا کہ ایران کی جوابی کارروائیوں کے پیشِ نظر امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد اتحاد نے اپنی بیلسٹک میزائل دفاعی تیاری کو مضبوط کر دیا ہے ۔ یہ حالتِ ہائی الرٹ تب تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی طرف سے خطرات کم نہیں ہو جاتے ۔برطانیہ نے قطر بھیجنے کیلئے چار مزید ٹائیفون لڑاکا طیارے روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔جمعرات کو ایک ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں بحرین کی مرکزی سرکاری آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پالیا گیا ۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں مغربی سفارت کاروں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے ۔سعودی دارالحکومت کے سفارتی علاقے کو بند کر دیا گیا ہے جہاں متعدد غیر ملکی سفارت خانے اور سفارت کاروں کی رہائش گاہیں واقع ہیں۔ سفارتی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران کی جانب سے خلیج بھر میں حملے جاری ہیں، جبکہ ابو ظہبی میں ڈرون کے ملبے سے چھ افراد زخمی ہو گئے۔
ابوظہبی میڈیا آفس نے ایک بیان میں کہا اس واقعہ کے نتیجے میں چھ پاکستانی اور نیپالی شہریوں کو معمولی اور درمیانے درجے کی چوٹیں آئیں ۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریاسس نے پریس کانفرنس میں کہاکہ دبئی میں عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قائم ڈبلیو ایچ او کے لاجسٹکس مرکز کی سرگرمیاں اس وقت سکیورٹی خدشات کے باعث عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔جمعرات کو کم از کم دو تیل کے جہاز خلیج میں حملوں کا شکار ہوئے ۔ایک خام تیل بردار جہاز عراق کے خور الزبیر پورٹ کے نزدیک لنگر انداز تھا، جسے ایرانی ریموٹ کنٹرول کشتی نے دھماکا خیز مواد سے نشانہ بنایا ۔دوسرا جہاز کویت کے ساحل پر لنگر انداز تھا، جس کے بائیں جانب بڑے دھماکے کے بعد پانی داخل ہو گیا اور تیل لیک ہونا شروع ہو گیا۔ اب تک نو جہاز حملوں کا شکار ہو چکے ہیں، جس سے عالمی شپنگ اور توانائی کی ترسیل پر خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی حکام نے سکیورٹی کے نام پر آج مسجد الاقصیٰ کمپاؤنڈ نماز جمعہ کیلئے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے ، اعلان کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے تمام مقدس مقامات بشمول دیوارِ مغربی، مسجد الاقصیٰ، اور چرچ آف ہولی سیپلچر جمعہ کے دن بند رہیں گے اور تمام مذاہب کے عبادت گزاروں اور زائرین کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تہران، دوحہ اور بیروت جیسے شہروں سے ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں بڑے پیمانے پر نقصان اور آسمان کی جانب گہرے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں، ایران پر اسرائیل و امریکا نے 5 ہزار ٹن سے زیادہ گولہ بارود برسا دیا،ہسپتالوں اور سکولوں سمیت مختلف اہداف پرحملوں میں ایرانی شہدا کی تعداد 1230 ہوگئی ہے ،پاسداران انقلاب نے امریکی ٹینکر اور جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ایرانی فوج نے کرد علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے ہیڈکوارٹر اور اسلحہ ڈپو تباہ کردیا۔آبنائے ہرمز بدستور بندہے اور پاسداران انقلاب کاکہناہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے جہاز نکلوا سکتا ہے تو آ کر دکھائے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے تکنیکی وجوہات کے سبب آذربائیجان کے ساتھ اپنی سرحد بند کردی، سرحد پر پاکستانی بھی موجود ہیں، ایران کی طرف سے پاکستانیوں کو بھی انتظار کرنے کا کہا گیا ہے ۔ ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف خرمشہر 4 سٹریٹجک بیلسٹک میزائل داغے گئے ،ان میزائلوں نے تل ابیب کے مرکز، بن گوریون ایئرپورٹ اور اسرائیلی فضائیہ کے 27ویں سکواڈرن کے اڈے کو نشانہ بنایا۔خرمشہر 4 میزائل تقریباً 13 میٹر لمبا اور تقریباً 30 ٹن وزنی ہے اور ایک ٹن سے زائد دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ،اس میزائل کی زیادہ سے زیادہ رفتارآواز کی رفتار سے 16 گنا زیادہ تک جاسکتی ہے ۔ لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں اسرائیل کے متعدد فضائی حملوں میں 10افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ۔لبنان کے شمالی شہر تریپولی میں واقع فلسطینی مہاجر کیمپ پر اسرائیلی ڈرون حملے میں حماس کے سینئر عہدیدار اہلیہ سمیت شہید ہو گئے ،ان کی ایک بیٹی بھی زخمی ہوئی ۔