اعتماد کا بحران سرمائے کے انخلا کی اصل وجہ ، عبدالرحمن
صرف اثاثوں کی واپسی پر زور دینا حل نہیں،ماحول کو بھی سازگار بناناہوگا
کراچی(بزنس ڈیسک) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سابق نائب چیئرمین عبدالرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان سے سرمائے کا انخلا دراصل اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتا ہے اور جب تک اس بنیادی مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا سرمائے کی واپسی ممکن نہیں۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پیسہ کسی ملک سے اچانک نہیں نکلتا بلکہ اس وقت نکلتا ہے جب اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور یہی صورتحال اس وقت پاکستان کو درپیش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بیانات بشمول وزیر داخلہ محسن نقوی کی گفتگو نے بیرونِ ملک منتقل ہونے والے سرمائے کے مسئلے کو دوبارہ اجاگر کیا ہے تاہم صرف بیرونِ ملک اثاثوں کی واپسی پر زور دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں ۔
عبدالرحمن نے کہا کہ سرمایہ کا انخلا کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ یہ کئی دہائیوں سے جاری ہے جس کی بنیادی وجوہات میں غیر یقینی معاشی صورتحال، غیر مستقل پالیسیاں اور اداروں پر اعتماد کی کمی شامل ہیں۔ ان کے مطابق سرمایہ کار استحکام، پیشگوئی اور تحفظ چاہتے ہیں اور ان عناصر کی عدم موجودگی میں سرمایہ محفوظ ماحول کی جانب منتقل ہو جاتا ہے ۔انہوں نے نشاندہی کی کہ سرمائے کی منتقلی صرف بیرونِ ملک تک محدود نہیں بلکہ ملک کے اندر بھی ایک اہم رجحان موجود ہے جہاں خصوصاً سندھ سے دیگر صوبوں کی طرف سرمایہ منتقل ہو رہا ہے ، ان کے مطابق یہ صورتحال سیاسی عدم استحکام، گورننس مسائل اور امن و امان پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتی ہے ۔ عبدالرحمن نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کا مقصد سرمایہ واپس لانا ہے تو کیا اس کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل ضروری ہے ، تاہم اسے شفاف، غیر جانبدار اور بلاامتیاز ہونا چاہیے ، کسی ایک شہر یا مخصوص گروہ کو نشانہ بنانا مسئلے کو محدود کرنے کے مترادف ہے ، اگر سرمایہ ملک سے باہر گیا ہے تو یہ پورے ملک سے گیا ہے ، اس لیے احتساب بھی قومی سطح پر یکساں ہونا چاہیے۔