بیرونی سرمایہ کاری کا محدود شعبوں تک سمٹنا تشویشناک
فوری اور طویل المدتی پالیسی پر توجہ ناگزیر ہے ،اوورسیز انوسٹرز چیمبر
کراچی(بزنس رپورٹر)اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حالیہ رجحانات پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف سرمایہ کاری میں کمی ہی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا چند محدود شعبوں تک سمٹ جانا ایک زیادہ سنگین ساختی چیلنج بنتا جا رہا ہے جس پر فوری اور طویل المدتی پالیسی توجہ ناگزیر ہے ۔ او آئی سی سی آئی کے مطابق حالیہ ایف ڈی آئی اعداد و شمار یہ واضح کرتے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ اب بھی پاور سیکٹر اور مالیاتی خدمات جیسے محدود شعبوں تک مرکوز ہے جبکہ معیشت کے دیگر پیداواری اور ترقیاتی شعبے اس سرمایہ کے بہاؤ سے محروم ہیں۔
چیمبر نے خبردار کیا کہ کسی بھی معیشت کی پائیدار ترقی کیلئے سرمایہ کاری کا متنوع ہونا بنیادی شرط ہے کیونکہ چند شعبوں پر انحصار معاشی ڈھانچے کو کمزور اور غیر متوازن بنا دیتا ہے ۔چیمبر نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ اصل کامیابی صرف ایف ڈی آئی کے حجم میں اضافہ نہیں بلکہ اس کا مختلف شعبوں میں پھیلاؤ ہے ۔ او آئی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام کے حصول میں قابلِ ذکر پیشرفت کی ہے ، تاہم اب اس استحکام کو حقیقی اقتصادی مسابقت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔چیمبر کے مطابق اگلا مرحلہ ایسی پالیسی اصلاحات کا ہونا چاہیے جو عالمی کمپنیوں کو پاکستان میں محض موجودہ سرگرمیوں کوبرقرار رکھنے کے بجائے ریجنل پروڈکشن، جدت اور سروسز کے مراکز قائم کرنے کی ترغیب دیں۔