گرمی کا تاریخی قہر،یورپ میں تمام ریکارڈ پاش پاش،درجنوں ہلاکتیں،ریڈالرٹ جاری
کئی حصوں میں افریقہ سے زیادہ گرمی ،فرانس میں ایمرجنسی مریضوں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ،شہریوں نے رات پارکوں میں گزاری بیلجیئم میں سوئمنگ پولز کی کمی پر احتجاج ، اٹلی میں دن کو کھلے آسمان تلے کام پر پابندی ، ایئر کنڈیشننگ سسٹم خراب ہونے پر مقدمات کی سماعت ملتوی لندن ایمبولینس سروس کو تاریخ میں سب سے زیادہ جان لیوا ہنگامی کالز موصول ،جرمنی میں آؤٹ ڈور تقریبات منسوخ ، فصلوں اور لائیوسٹاک کو نقصان
پیرس،لندن(نیوز ایجنسیاں )موسمیاتی بحران نے مغربی یورپ کو تندور بنا دیا۔ افریقہ سے اٹھنے والے شدید ترین گرم ہوا کے طوفان نے 38 کروڑ سے زائد یورپی شہریوں کو جھلسنے پر مجبور کر دیا۔ برطانیہ میں تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ ہونے کے ساتھ ساتھ فرانس اور سپین میں ہلاکت خیز تپش نے درجنوں جانیں نگل لیں، براعظم یورپ کے کئی حصوں میں اس وقت افریقہ سے بھی زیادہ گرمی پڑ رہی ہے ، جس نے ٹرانسپورٹ کے نظام سے لے کر ہنگامی امداد کے شعبوں تک متعدد چیلنجز کھڑے کر دئیے ہیں ۔ تپتی گاڑیوں میں بچوں کی ہلاکتوں اور ہسپتالوں میں دل کے مریضوں کی قطاروں نے ہنگامی صورتحال پیدا کر دی ہے ۔ اقوامِ متحدہ نے خبردار کر دیا ہے کہ یہ 'موسمیاتی تباہی' کا واضح ثبوت ہے ۔ فرانس بھر میں گرمی کی وجہ سے ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے ۔ سکولوں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشننگ نہ ہونے اور ناقابلِ برداشت حالات کے خلاف اساتذہ کی تنظیموں نے ہڑتال کی کال دے دی ہے ۔فرانس میں 13,500 سکولوں کو یا تو بند کر دیا گیا ہے یا ان کے اوقاتِ کار تبدیل کیے گئے ہیں۔ برطانیہ میں بھی 1,000 سے زائد سکول جزوی یا مکمل طور پر بند رہے کیونکہ کلاس رومز کا درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر گیا تھا۔
پیرس میں شدید گرمی سے بچنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد نے راتیں گھروں کے بجائے پارکوں میں ہیمکس (جھولوں)اور کیمپنگ میٹس پر گزاریں، جبکہ انتظامیہ نے 'کینال سینٹ مارٹن' میں شہریوں کو نہانے کی اجازت دے دی۔ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں 40 ڈگری گرمی کے باوجود پبلک سوئمنگ پولز کی کمی پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔ سپین کے مانیٹرنگ سسٹم 'MoMo' کے مطابق اتوار سے بدھ کے درمیان گرمی کی وجہ سے کم از کم 212 اموات ہو چکی ہیں۔ اٹلی میں گرمی کی وجہ سے 5 افراد ہلاک ہوئے ، جس کے بعد کئی خطوں میں تعمیراتی مزدوروں، کسانوں اور کورئیر ملازمین کے لیے دن کے گرم ترین اوقات میں کھلے آسمان تلے کام کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔اٹلی کے جزیرے سسلی (پالرمو) میں عدالتوں نے ایئر کنڈیشننگ سسٹم خراب ہونے کے باعث تمام غیر ضروری مقدمات کی سماعت 29 جون تک ملتوی کر دی ہے ۔ برطانیہ کے جنوب مغربی علاقے یوولٹن میں درجہ حرارت 36.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو برطانیہ کی تاریخ میں جون کا گرم ترین دن ہے ۔لندن ایمبولینس سروس کو تاریخ میں سب سے زیادہ جان لیوا ہنگامی کالز موصول ہوئیں۔مجموعی طور پر، بدھ کے دن سروس کو 7,900 کالز موصول ہوئیں جن میں سے عملے نے تقریباً 3,600 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے اس ہفتے سڑکوں پر معمول سے 400 زائد ایمبولینس عملے کو تعینات کیا گیا ہے ۔
ایک اولڈ ایج ہوم کے مینیجر نے بتایا کہ ڈیمنشیا (بھولنے کی بیماری)کے مریض پیاس محسوس ہونے پر پانی مانگنا بھول جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے ۔ شدید صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ موسمیات نے جمعرات کے اوائل میں ہی لندن اور اس کے قریبی علاقوں کے لیے شدید ترین گرمی کا ریڈ الرٹ جمعہ کی رات تک بڑھا دیا ہے ۔ سوئٹزرلینڈ میں جمعرات کے روز جون کی تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔ جرمنی میں درجہ حرارت 40 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی کے بعد کئی آؤٹ ڈور تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔ جرمن ریلوے نے مسافروں کو جنگلاتی آگ اور شدید طوفانی بارشوں کے خطرے کے پیشِ نظر سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ہیٹ ویو کا یہ رخ اب مشرقی یورپ کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں کے لیے 'ریڈ الرٹ' جاری کر دیا گیا ہے ۔ نیدرلینڈز (ہالینڈ)نے ملکی تاریخ میں پہلی بار گرمی کا شدید ترین 'ریڈ الرٹ' جاری کر دیا ہے ۔ حکام نے شہریوں کو خبر دار کیا ہے کہ آج (جمعے کے روز) کئی مقامات پر درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیئس کی ریکارڈ سطح کو چھو سکتا ہے ۔ فرانس کی وزارتِ زراعت کے مطابق اس شدید ہیٹ ویو سے فصلوں (بالخصوص اناج، گاجر اور دیگر سبزیوں)اور لائیو سٹاک (خاص طور پر مرغی خانوں)کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ، جس سے مستقبل میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔