یورپ کی تپش نے ایشیائی کمپنیوں کی چاندی کر دی

 یورپ کی تپش نے ایشیائی کمپنیوں کی چاندی کر دی

اے سی کی مانگ پوری کرنے کے لیے کمپنیاں دن رات کام کر رہی ہیں چینی پورٹیبل اے سیز کا نیا سٹاک ختم ،پرانے اصل قیمت سے بھی مہنگے

بیجنگ،سیول(رائٹرز ) یورپ میں آسمان سے برستی آگ اور ریکارڈ توڑ ہیٹ ویو نے جہاں کروڑوں انسانوں کا جینا محال کر دیا ہے ، وہیں ایشیا کی الیکٹرانکس کمپنیوں کے لیے یہ ہولناک گرمی ایک بڑا "بزنس جیک پاٹ" ثابت ہو رہی ہے ۔ روایتی طور پر ٹھنڈے رہنے والے براعظم یورپ میں، جہاں کبھی ایئر کنڈیشنر کو ایک غیر ضروری تعیش سمجھا جاتا تھا، آج اسی اے سی خریدنے کے لیے دکانوں کے باہر لمبی لائنیں لگی ہیں۔ ساؤتھ کوریا کی سیمسنگ ، چین کی مڈیا اور جاپان کی مٹسوبشی الیکٹرک جیسی بڑی ایشیائی کمپنیوں کے پروڈکشن پلانٹس اب دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ یورپ کی اس غیر مٹتی پیاس اور گرمی کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، چین کی مشہور کمپنی 'مڈیا' کے پورٹیبل اے سیز کی مانگ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ مارکیٹ میں نیا سٹاک ختم ہو گیا ہے اور اب استعمال شدہ (سیکنڈ ہینڈ)اے سی اصل قیمت سے بھی مہنگے بک رہے ہیں۔

مئی کے مہینے میں فرانس اور سپین جیسے ممالک میں اے سیز کی سپلائی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 108 فیصد کا ناقابلِ یقین اضافہ دیکھا گیا ہے ، جبکہ جرمنی میں آن لائن فروخت 37 فیصد بڑھ گئی ہے ۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق، یورپ میں محض 20 فیصد گھروں میں اے سی نصب ہیں لیکن جس تیزی سے یورپ دنیا کے باقی حصوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ گرم ہو رہا ہے ، یہ رجحان اب مستقل طور پر بدل رہا ہے ۔ یورپ میں پرانی طرز کی عمارتوں کی وجہ سے اے سی فٹ کروانا اب بھی ایک بڑا سردرد ہے ، جہاں صارفین کو نہ صرف ہفتوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے بلکہ صرف فٹنگ کی لاگت ہی 1,000 یورو سے تجاوز کر چکی ہے ۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ نے اب یورپی بازاروں کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں