بجٹ سازی کے نظام پر تھنک ٹینک کے شدید تحفظات
آئی ایم ایف دباؤ پر بجٹ منظوری سے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا شفافیت وپالیسی سازی میں اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت ناگزیر،رپورٹ
کراچی (رپورٹ: حمزہ گیلانی) معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نے پاکستان کے مالیاتی اور بجٹ سازی کے موجودہ نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی سال 2026-27ء کا وفاقی بجٹ محض آئی ایم ایف کے دباؤ میں 11 روز کے اندر ہی پارلیمنٹ سے منظور کر لیا گیا جس کے باعث کاروباری برادری، مزدور تنظیموں، کسانوں، سول سوسائٹی، تعلیم و صحت کے ماہرین اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کو مؤثر مشاورت کے عمل سے باہر رکھا گیا۔تھنک ٹینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجٹ سازی کا عمل جمہوری شفافیت، عوامی شرکت اور پالیسی مشاورت کے بنیادی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں جس کے نتیجے میں معاشی فیصلوں پر عوامی اعتماد متاثر ہو رہا ہے ۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق بجٹ کی تیاری اور منظوری کے دوران نہ تو عوامی مشاورت کیلئے کوئی جامع آن لائن پلیٹ فارم متعارف کرایا گیا اور نہ ہی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور نمائندہ تنظیموں کی آراء کو باقاعدہ طور پر شامل کیا گیا۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور سینیٹ کی جانب سے پیش کی جانے والی متعدد سفارشات کو بھی خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی جس سے پارلیمانی نگرانی کے عمل کی افادیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ تھنک ٹینک نے بین الاقوامی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں بجٹ سازی کا عمل کہیں زیادہ جامع اور مشاورتی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے تاکہ تمام متعلقہ فریقین کی آراء کو پالیسی سازی کا حصہ بنایا جا سکے ۔رپورٹ میں زور دیا گیا کہ پاکستان میں معاشی استحکام، مالیاتی شفافیت اور حقیقی جمہوری طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے بجٹ سازی کے موجودہ طریقہ کار میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔اس مقصد کے لیے بجٹ سے قبل قابلِ مشاورت پالیسی دستاویزات عوامی سطح پر جاری کی جائیں، مختلف شعبوں کے نمائندوں سے بامعنی مشاورت کا باقاعدہ نظام قائم کیا جائے اور بجٹ کے اثرات کا پیشگی تجزیہ عوام کے سامنے رکھا جائے۔