ملک کے 4.7 فیصد حصے پرجنگلات، ماحولیاتی تحفظ کیلئے ناکافی

ملک کے 4.7 فیصد حصے پرجنگلات، ماحولیاتی تحفظ کیلئے ناکافی

سالانہ 11 ہزار ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے ، فوری اقدامات ناگزیر ہیں، فرنیچر کونسل جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے موسمیاتی بحران شدت اختیار کرجائیگا، کاشف اشفاق

لاہور(اے پی پی)پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے ہیں، ملک کے مجموعی رقبے کا صرف 4.7 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے ، جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے ناکافی ہے ۔ اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہری آبادی میں تیز رفتار اضافہ، درختوں کی غیر قانونی کٹائی، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور زرعی و رہائشی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا رجحان جنگلات کے تیزی سے خاتمے کا باعث بن رہا ہے ۔ اس کے نتیجے میں پاکستان سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی اور اسموگ جیسے موسمیاتی خطرات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگلات، خصوصاً برساتی جنگلات، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے ، موسمی توازن برقرار رکھنے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم جنگلات کی مسلسل کٹائی قدرت کی اس صلاحیت کو کمزور کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تیز رفتار صنعت کاری، شہری توسیع اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور موسمیاتی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔ پاکستان بھی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جنگلات کے وسیع نقصان کے باعث ماحولیاتی تنزلی اور قدرتی آفات کے بڑھتے خطرات کا سامنا کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے خاتمے کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ زراعت، حیاتیاتی تنوع اور آبی وسائل بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...