بلیو اکانومی،99 نکاتی روڈ میپ میں سے 85 پرعملدرآمد مکمل
اصلاحاتی نتائج آنا شروع، عالمی درجہ بندی میں کراچی پورٹ 99سے 69ویں نمبر پر
لاہور(این این آئی)ملکی سمندر تقریباً 100ارب ڈالر کی بلیو اکانومی کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم کئی دہائیوں تک اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ پاکستان کا بیشتر کارگو غیر ملکی شپنگ کمپنیاں لے جاتی رہیں۔رپورٹ کے مطابق قومی کارگو میں پاکستان کی اپنی شپنگ صنعت کا حصہ صرف 11 فیصد تک محدود رہا،یہ صورتحال محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ قومی سلامتی اور معاشی خودمختاری کیلئے ایک اسٹرٹیجک خطرہ تھی۔اس صورتحال کو تبدیل کرنے کیلئے 24 دسمبر 2024 کو 99 نکاتی روڈ میپ متعارف کرایا گیا جس کی بنیاد پورٹس، لاجسٹکس، شپنگ، جہاز سازی اور ماہی گیری کے شعبوں پر رکھی گئی، رپورٹ کے مطابق روڈ میپ کے 99 میں سے 85 نکات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے ۔اس روڈ میپ کا مقصد پاکستان کے بحری شعبے کو جدید اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیشنل پورٹس ماسٹر پلان تیار کیا گیا، یکساں پورٹ ٹیرف نافذ کیا گیا، کراچی پورٹ سے تجاوزات ختم کی گئیں جبکہ جدید کارگو مینجمنٹ سسٹم متعارف کرائے گئے تاکہ بندرگاہوں کی استعداد اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے ۔فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ اور پاکستان سنگل ونڈو سسٹم کے ذریعے کارگو کلیئرنس کا وقت 53 گھنٹوں سے کم ہو کر 18 گھنٹے رہ گیا ہے ۔ کسٹمز، بینکوں اور پورٹ آپریٹرز کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لانے سے کاروباری اور تجارتی عمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز، شفاف اور آسان بنا دیا گیا ہے ۔1980 کے بعد پہلی مرتبہ کراچی شپ یارڈ میں تجارتی کنٹینر جہاز کی تعمیر شروع ہو چکی ہے ، اس جہاز کی قیمت بھی مارکیٹ کے مقابلے میں کئی ملین ڈالر کم بتائی جاتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments