درآمدی فوسل فیولز پر بڑھتا انحصار معیشت کیلئے خطرہ
قابل تجدید توانائی کو فروغ دینامعاشی ضرورت بن چکا ہے، شیخ تحسین
کراچی(بزنس رپورٹر)فیڈرل بی ایریا ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ایسوسی ایشن کے صدر شیخ تحسین نے کہا ہے کہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدی فوسل فیولز پر بڑھتا ہوا انحصار ملکی معیشت، زرمبادلہ ذخائر اور صنعتی مسابقت کے لیے شدید دباؤ کا باعث بن رہا ہے ۔پاکستان پہلے ہی فوسل فیولز کی درآمد پر 16 ارب ڈالر سے زائد خرچ کر چکا ہے جبکہ مجموعی درآمدات میں فوسل فیولز کا حصہ 24.2 فیصد تک پہنچ جانا اس امر کی واضح نشاندہی ہے کہ توانائی کا شعبہ ملکی معیشت پر کس قدر گہرا اثر ڈال رہا ہے ۔ایک بیان میں شیخ تحسین نے کہا کہ درآمدی ایندھن پر انحصار میں مسلسل اضافہ نہ صرف زرمبادلہ کے قیمتی ذخائر کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان کی توانائی لاگت اور صنعتی پیداوار بھی براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی درآمدات میں سالانہ 5.76 فیصد اضافہ ایک سنجیدہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس صورتحال میں قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع اب محض متبادل توانائی کے ذرائع نہیں رہے بلکہ قومی معاشی ضرورت بن چکے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments