نیشنل بینک کو 48.9ارب روپے بعد از ٹیکس منافع

نیشنل بینک کو 48.9ارب روپے بعد از ٹیکس منافع

فی حصص آمدن 22.98روپے رہی، اثاثے 7,753.1ارب تک جاپہنچے

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)نیشنل بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس گزشتہ دنوں منعقد ہوا جس میں 30 ستمبر 2026ء کو رواں سال کے ابتدائی 9 ماہ کے لیے بینک کے عبوری مختصر مالیاتی نتائج کی منظوری دی گئی۔کم شرح سود کے ماحول اور گزشتہ سال کی اسی مدت کے غیرمعمولی طور پر مستحکم مالیاتی نتائج کے پیش نظر بینک نے 2026ء کے پہلے 9ماہ کے دوران 193.6 ارب روپے کی مجموعی آمدن اور 48.9 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا جبکہ فی حصص آمدن 22.98 روپے رہی۔رواں سال کے ابتدائی 9 ماہ میں این بی پی کی مجموعی سودی آمدن 562.6 ارب روپے رہی جو6.4 فیصد کم ہے ۔ بینک کے سرمایہ کاری پورٹ فولیو سے 427.1 ارب روپے کی آمدن ہوئی ۔ فنڈز کی لاگت 406.5 ارب روپے رہی جس کے نتیجے میں خالص سودی آمدن 156.1 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔

نان فنڈ آمدن 37.5 ارب روپے رہی۔ زرمبادلہ کی آمدن 24.3 فیصد اضافے کے ساتھ 5.9 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ ڈیویڈنڈ کی آمدن 33.4 فیصد بڑھ کر 5.2 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ کاروباری سرگرمیوں میں کمی کے باعث فیس اور کمیشن سے حاصل ہونے والی آمدن 17.9 ارب روپے رہی۔کیپٹل گینز سے حاصل ہونے والی آمدن 9.8 ارب روپے رہی۔ آپریٹنگ اخراجات سالانہ8.8 فیصد اضافے سے 96.8 ارب روپے ہوگئے ۔بینک کے کُل اثاثے 9.7فیصد بڑھ کر 7,753.1 ارب روپے پر جا پہنچے ۔بینک کا صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) عمران سرور نے کہا کہ این بی پی کی اصل طاقت صارفین کا اعتماد، ملازمین کی لگن اور اس کی مضبوط بیلنس شیٹ ہے ۔ یہ نتائج موجودہ شرح سود کے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ شیئر ہولڈرز کو نمایاں مالی فائدہ پہنچانے کے باوجود بینک منافع بخش رہا اور اس کی سرمایہ جاتی بنیاد مستحکم رہی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...