انتخابات میں غیر ملکی مداخلت ، تحقیقات شروع :اسرائیلی ایجنسی
نیتن یاہو اتحاد کاعرب جماعتوں پرغیر ملکی فنڈنگ کا الزام،قطر اور ترکیہ کی تردید
یروشلم(اے ایف پی)اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کا کہنا ہے کہ انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات سیاسی شخصیات کی فراہم کردہ معلومات پر نہیں بلکہ ادارے کی اپنی آزادانہ معلومات کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں اور اس کا مقصد قانونی اور جمہوری طریقے سے ووٹ ڈالنے والی کسی پوری برادری کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں ہے ۔ شن بیت کا کہنا تھا کہ انتخابات کے اختتام سے قبل ادارے سے باہر کسی کو بھی، سوائے سپریم کورٹ کے جج نوام سولبرگ کے ، اس معلومات تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے الزامات کی جامع اور مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی تحقیقات سے اسرائیل کی پوری عرب برادری کی ساکھ متاثر نہیں ہونی چاہیے ،اسرائیل میں اپوزیشن کے اہم رہنما گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو پر انتخابی نتائج کو متنازع بنانے کی منظم مہم چلانے کا الزام عائد کیا ہے ۔ آئزن کوٹ کے مطابق یہ ایک مربوط مہم ہے ، جس کا مقصد انتخابی نتائج کو غیر معتبر ثابت کرنا ہے ۔ نیتن یاہو کے اتحادیوں نے عرب جماعتوں پر ترکیہ اور قطر سے فنڈنگ کے الزامات لگائے ہیں ۔ وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیاہے ۔مرکزی انتخابی کمیشن نے جماعت رعم کو قطر سے مالی امداد ملنے کے الزامات کی تحقیقات کی درخواست کی ہے ، تاہم حکام تاحال کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے ۔ قطر نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت اور انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے فنڈنگ کے الزامات مسترد کر دئیے ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ بعض اسرائیلی سیاست دان قطر پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قطر نے نہ اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کی اور نہ ہی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے کسی سرگرمی کی مالی معاونت کی۔ الزامات مضحکہ خیز ہونے کے ساتھ خطرناک بھی ہیں۔ ترکیہ نے بھی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے ۔ترکیہ کے حکومتی سنٹر برائے کاؤنٹر ڈس انفارمیشن نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے دعوے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔یہ الزامات عوامی رائے کو متاثر کرنے کے مقصد سے چلائی جانے والی ایک دانستہ اور کھلی گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں۔اسرائیل کی عرب جماعت جوائنٹ لسٹ نے نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کو عرب برادری کی بڑھتی سیاسی طاقت کا خوف قرار دیا ہے ۔ اسرائیل کی عرب جماعت رعم کے سربراہ منصور عباس نے انتخابی دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے تحقیقات کا خیرمقدم کیا ہے ۔ جماعت کے ترجمان کے مطابق منصور عباس نے کہا کہ رعم کا زیر بحث معاملے یا کسی دوسرے معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت حقیقت سامنے لانے کے لیے تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ اسرائیلی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے ، اپوزیشن جماعتوں کو مجموعی طور پر 67 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے 27 نشستیں حاصل کیں، جبکہ نیتن یاہو کے پورے اتحاد کی نشستوں کی تعداد 53 رہی۔نیتن یاہو کے اہم حریف گاڈی آئزن کوٹ کی یشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کیں۔ ان کے اتحادیوں سمیت اپوزیشن بلاک کے پاس 48 نشستیں ہیں،عرب جماعت رعم کو 8 جبکہ جوائنٹ لسٹ کو 11نشستیں ملیں ، اگر فلسطینی اکثریتی آبادی کی نمائندہ جماعتیں تعاون پر آمادہ ہو جائیں تو آئزن کوٹ کے حکومت بنانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments