امریکا کی پالیسی سازی ،ٹرمپ کے گروک سے مشورے
ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کی گرفتاری پر ممکنہ عوامی ردعمل کے بارے میں سوال کیا تھا
واشنگٹن(اے ایف پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ گروک سے مشورے لینے کی اطلاعات پر ڈیموکریٹ ارکان کانگریس نے صدارتی انتظامیہ سے تمام متعلقہ گفتگو اور جوابات محفوظ رکھنے کا مطالبہ کردیا ہے ۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ارکان کانگریس جیمی راسکن اور رابرٹ گارسیا نے وائٹ ہاؤس سے 11 نومبر تک بند کمرے میں بریفنگ دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے ، جس میں صدر کے مصنوعی ذہانت کے استعمال، حساس معلومات کے تحفظ اور نجی کمپنیوں کی ان تک ممکنہ رسائی پر وضاحت طلب کی جائے گی۔ارکان کانگریس نے خدشہ ظاہر کیا کہ خارجہ پالیسی اور فوجی فیصلوں میں نجی کمپنی کے زیر انتظام چیٹ بوٹ پر انحصار خطرناک ہوسکتا ہے ، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے جوابات غلط یا گمراہ کن ہوسکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے دسمبر 2025 میں ایلون مسک کے ساتھ اوول آفس کی ایک ملاقات کے دوران گروک استعمال کیا اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوج کے ہاتھوں پکڑے جانے پر وینزویلا کے عوام کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں سوال کیا تھا۔ چند ہفتوں بعد امریکی فوج نے مادورو کو حراست میں لے لیا، تاہم اس کارروائی پر گروک کے اثرانداز ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ڈیموکریٹ ارکان نے مصنوعی ذہانت سے متعلق دیگر مبینہ غلطیوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا ایسے نظاموں کے مشوروں نے حساس فوجی کارروائیوں کو متاثر کیا۔ ان واقعات میں گروک کے کردار کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔ مطالبے میں چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور جیمنائی سمیت دیگر چیٹ بوٹس سے متعلق سرکاری گفتگو کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی درخواست بھی شامل ہے ۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ انتظامیہ قانون کے مطابق تمام ضروری ریکارڈ محفوظ رکھتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments