اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی آمدنی 53.6 ارب روپے رہی

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی آمدنی 53.6 ارب روپے رہی

اخراجات، آمدنی کا تناسب 33فیصد پر برقرار ، ڈپازٹس 739ارب رہے

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (پاکستان)لمیٹڈ نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے نو ماہ کے دوران مستحکم مالیاتی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس عرصے میں بینک کا قبل از ٹیکس منافع 37.1 ارب روپے رہا جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 46.1 ارب روپے تھا۔اس عرصے میں بینک کی آمدنی 53.6 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ شرح سود میں کمی تھی۔ ملازمین اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے باوجود اخراجات پر مؤثر کنٹرول کے باعث بینک کے مجموعی اخراجات گزشتہ سال کی تقابلی مدت کے مقابلے میں ایک فیصد کم رہے ۔ بینک نے اخراجات اور آمدنی کا تناسب 33 فیصد پر برقرار رکھا جو بینکاری کی صنعت میں کم ترین تناسبوں میں سے ایک ہے ۔ محتاط رسک مینجمنٹ اور خراب قرضوں کی مؤثر وصولیوں کے نتیجے میں زیرِ جائزہ مدت کے دوران متوقع کریڈٹ نقصانات کی مد میں 1.2 ارب روپے کی خالص ریلیز ریکارڈ کی گئی۔

واجبات کے حوالے سے بینک کے مجموعی ڈپازٹس 739 ارب روپے رہے۔ ان ڈپازٹس میں کرنٹ اکاؤنٹس کا حصہ 58 فیصد رہا۔ اثاثوں کے حوالے سے کارپوریٹ ایڈوانسز اور ہاؤسنگ فنانس میں نمایاں نمو کے باعث سال کے آغاز سے اب تک نیٹ ایڈوانسز میں 31.5 ارب روپے یا 15 فیصد اضافہ ہوا۔ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (پاکستان) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ہیڈ آف کوریج، عادل صلاح الدین نے کہا کہ تیسری سہ ماہی کے ہمارے نتائج ہمارے کاروباری ادارے کی مضبوطی اور بدلتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا مظہر ہیں۔ سہ ماہی بہ سہ ماہی کارکردگی میں مسلسل بہتری، حکمتِ عملی پر مؤثر عمل درآمد، صارفین کے ساتھ مضبوط تعلقات اور ہماری بیلنس شیٹ میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے ۔ ہمیں بالخصوص ڈپازٹس اور ایڈوانسز، دونوں میں اضافے پر حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...