پاک چین دوستی ہسپتال کا افتتاح، ہر مریض کا علاج مفت، تمام اخراجات حکومت برداشت کریگی : وزیراعظم

پاک چین دوستی ہسپتال کا افتتاح، ہر مریض کا علاج مفت، تمام اخراجات حکومت برداشت کریگی : وزیراعظم

چین کی طرف سے تحفے میں ملنے والے ہسپتال کی طویل عرصہ بندش افسوسناک، مجرمانہ غفلت، خدمات کے معیار، انتظامی کارکردگی یقینی بنانے کیلئے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت مالی مشکلات علاج میں میں رکاوٹ نہیں بننی چا ہئیں، خطاب ،وزیرِ اعظم کی لاہور ،کراچی ایئرپورٹس میں توسیع کی منظوری،منصوبوں کے معیار پر سمجھوتا نہیں ہوگا ، شہبازشریف

 اسلام آباد (نامہ نگار ، دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ علاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے ، پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں ہر مریض کا 100فیصد مفت علاج ہوگا ،تمام اخراجات حکومت برداشت کریگی ، کوئی مریض مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم رہے گا نہ ہی مالی مشکلات علاج کی راہ میں رکاوٹ بنیں گی۔ پاک چین دوستی ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہسپتال میں مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مالی مشکلات کسی شہری کے علاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں ، انہوں نے کہا کہ 182بستروں کا یہ ہسپتال پاک چین دوستی کی لازوال مثال ہے ، چین نے کورونا وبا کے دوران پاکستان کو یہ ہسپتال تحفے میں دیا تھا ، تاہم کورونا کے بعد ہسپتال کی بندش انتہائی افسوسناک اور مجرمانہ غفلت تھی ، وزیراعظم نے ہسپتال کے طویل عر صہ تک غیر فعال رہنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خدمات کے معیار اور انتظامی کارکردگی کو یقینی بنانے کے لئے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت بھی کی ،انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان چین دوستی ہسپتال کا نام مستقل طور پر برقرار رہے گا ، صحت کے شعبے میں عوام اور دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی خدمت نہیں، عوام کی خدمت کرنے والوں کو ہمیشہ دعائیں ملتی رہیں گی ، ہسپتال کی بحالی سے اسلام آباد، راولپنڈی کے ساتھ ملک کے دیگر علاقوں کے مریضوں کو معیاری طبی سہولتوں تک رسائی حاصل ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوامی فلاح کیلئے قائم طبی اداروں کو فعال رکھنا اور ان کی سہولتوں سے عوام کو مستفید کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہسپتال میں مریضوں کے علاج کے 100 فیصد اخراجات حکومت برداشت کرے ، تاکہ کوئی مریض مالی وسائل کی کمی کے باعث علاج سے محروم نہ رہے ۔مفت علاج کی ہدایت مریضوں ان کے اہل خانہ کو ریلیف فراہم کرنا ہے ، بیماری کے دوران مالی پریشانی اکثر خاندانوں کے لئے اضافی مشکلات پیدا کرتی ہے ، اس لئے ہسپتال میں بلا معاوضہ علاج کی فراہمی سے مستحق اور ضرورت مند مریضوں کو سہارا ملنے اور معیاری طبی سہولتوں تک رسائی بہتر ہونے کی توقع ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ چین نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران پاکستان کو یہ ہسپتال بطور تحفہ دیا تھا، تاہم وبا کے خاتمے کے بعد یہ کئی سال تک غیر فعال رہا ، انہوں نے بتایا کہ اخباری رپورٹ کے بعد انہوں نے فوری نوٹس لیا اور وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کو ہسپتال کو فعال بنانے کے لئے اقدامات کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے ہسپتال کے طویل عرصے تک بند رہنے پر افسوس کا اظہار کیا اور چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کے ذریعے چینی حکومت اور عوام سے معذرت بھی کی۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی وسائل اور طبی انفرا سٹرکچر کو عوام کی خدمت کے لئے مؤثر انداز میں استعمال کیا جانا چا ہئے وزیراعظم نے ہسپتال میں علاج کے معیار، انتظامی کارکردگی اور خدمات کی فراہمی کا جائزہ لینے کے لئے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت کی تاکہ ادارے کی کارکردگی اور جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ ہسپتال میں مجموعی طور پر 182 بستروں کی گنجائش ہے ، جن میں 50 انتہائی نگہداشت کے بستروں پر مشتمل آئی سی یو سہولت بھی شامل ہے ، ہسپتال میں اسلام آباد ، راولپنڈی کے علاوہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے ۔ حکومت اور انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (IHHN) کے اشتراک سے ہسپتال کا انتظام چلایا جائے گا، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 200 بستروں پر مشتمل کینسر ہسپتال بنایا گیا ، جسے آئندہ سال فعال کرنے کی توقع ہے اس منصوبے کو کینسر کے مریضوں کے لیے علاج کی سہولتوں میں اضافے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے ہسپتال کا نام پاک چین فرینڈشپ رکھنے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ ایک آئسولیشن ہسپتال سے جنرل ہسپتال میں تبدیل ہو چکا ہے اور عوامی فلاح کے لیے اس کی بحالی اہمیت رکھتی ہے ۔ چینی سفیر نے پاکستان میں عوام کی بہتری کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے پاک چین تعاون کو مزید وسعت دینے اور (سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں پیش رفت کی خواہش کا اظہار کیا۔ چینی سفیر نے کہا کہ پاک چین فرینڈشپ ہسپتال وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور سرپرستی کا نتیجہ ہے ۔ ہسپتال کو پاک چین فرینڈشپ ہسپتال کا نام دیا جانا قابلِ تحسین ہے ۔چینی سفیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے ، سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا ،وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر پاک چین دوستی زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا ،انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبدالباری خان نے بتایا کہ ان کا ادارہ ملک بھر میں 15 ہسپتال ، 140 بنیادی صحت کے مراکز، چار بلڈ سینٹرز اور چار بحالی مراکز چلا رہا ہے ، جہاں ہر ماہ تقریباً سات لاکھ مریضوں کو خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارے کا سالانہ بجٹ پہلے سال ایک ارب تھا، جو موجودہ سال میں بڑھ کر 68 ارب روپے ہو چکا ، جبکہ اس بجٹ کا تقریباً 70 فیصد پاکستان کے اندر سے جمع کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے اسلام آباد میں بلڈ سینٹر قائم کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ، دریں اثنا وزیرِ اعظم نے ا یئر پورٹس پر بین الاقوامی معیار کو مد نظر رکھ کر سہولیات مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے لاہور اور کراچی ا یئر پورٹس کی ماسٹر پلانز کے تحت توسیع کی منظوری دے دی۔وزیرِ اعظم نے توسیعی منصوبوں کو معینہ مدت میں مکمل کرنے جبکہ توسیعی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھو تا نہ کرنے اور انہیں بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے توسیعی منصوبوں اور مسافروں کی سفری سہولیات کو بہترین بنانے کے لیے اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایئر پورٹس پر سفری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ اداروں کی خدمات لی جائیں، ہوائی اڈوں پر مسافروں کو سہولت فراہم کرنے والے افسران و عملے کو اعلیٰ سروس ڈیلیوری کی باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہوائی اڈوں پر موجود مختلف اداروں کے درمیان روابط کو مزید بہتر بنایا جائے اور مسافروں کی سہولت کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے ، ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے بہترین کیٹررز کی خدمات لی جائیں اور کھانے پینے کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ملک کے بڑے شہروں میں ہوائی اڈوں کی توسیع اور ہوائی اڈوں پر مسافروں کو بہترین سفری سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اجلاس میں بڑے ایئرپورٹس پر سفری سہولیات کے معیار کو جانچنے کے حوالے سے حال ہی میں بین الاقوامی فرم کے ذریعے مکمل کیے گئے سروے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مقامی پروازوں کی بحال کیلئے 14 ایئر پورٹس فعال کئے ہیں ، حیدرآباد میں ہوا بازی کے موجودہ ادارے کو مزید بہتر کرکے بین الاقوامی معیار کی ایویشن یونیورسٹی بنائی جارہی ہے جس پر فروری 2028 تک کام شروع کر دیا جائے گا۔۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے ترکیہ کے قومی دن پر صدر اردوان اور ترک عوام کو مبارکباددی اور کہا پاکستان اور ترکیہ کی دوستی مشترکہ تاریخ، باہمی اعتماد اور غیر متزلزل یکجہتی پر قائم ہے ، دونوں ممالک خطے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...