مولانا فضل الرحمٰن کو سخت حکومتی جواب : انکا احترام ختم، اب نوکری، پیسے، ٹکٹ نہیں ملیں گے : محسن نقوی سیاست اور مذہب انکی کمائی کا ذریعہ، پی ڈی ایم حکومت میں وارداتوں پر منہ نہ کھلوائیں : خواجہ آصف
یہی لوگ کہتے تھے گورنر راج لگائیں ہماری جان چھڑائیں:وزیر داخلہ،ایسی بلیک میلنگ کہ بلیک میلر بھی شرما جائیں:وزیر ریلوے ،تہران میں دفاعی معاہدہ نہیں ہورہا تھا،فیلڈمارشل صلح کرانے گئے :وزیر دفاع زبان سنبھال کر استعمال کریں:کامران مرتضیٰ،مولانا کی تقریر کے وقت خواجہ آصف ہاتھ جوڑ رہے تھے ،لگتا ہے ان کو کوئی ڈائریکشنز آئیں:عالیہ کامران،ریاست مخالف بیانات ناقابل قبول:رانا ثنا اللہ نہ آپ اتنے اچھے نہ ہم اتنے برے ملکر بیٹھیں:اچکزئی،پارلیمان کی مضبوطی کیلئے ارکان کو کمیٹی میں بٹھائیں:بلاول،حنیف عباسی خانہ بدوش:غفور حیدری،سینیٹ ،قومی اسمبلی میں تلخ کلامی، اجلاس ملتوی
اسلام آباد(نیوز رپورٹر،اپنے رپورٹرسے ، نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)پارلیمنٹ میں سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن کو سخت حکومتی جواب کاسامنا کرنا پڑا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ان کا احترام ختم ، اب نوکری ، پیسے ، ٹکٹ نہیں ملیں گے ۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا سیاست اور مذہب ان کی کمائی کا ذریعہ ہے ،پی ڈی ایم حکومت میں وارداتوں پر منہ نہ کھلوائیں۔سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ماضی میں ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمان کا بہت احترام کرتے تھے ، تاہم کل انہوں نے جب کہا کہ میں ریاست پر تھوکتا ہوں، اب احترام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ان کیلئے ریاست تب تک ہی اہم یا 'ماں جیسی ہوتی ہے جب تک انہیں اس سے مفادات حاصل ہوتے رہیں۔ جب تک مال ملتا رہے، اس وقت تک تو ریاست بہت اچھی لگتی ہے ، لیکن جیسے ہی اپنا حصہ نہ ملے تو ریاست پر اعتراضات اور تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ،کچھ چیزیں کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتیں۔ انہوں نے کہا جب حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوکنا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو سو بار تنقید اور سیاسی اختلاف کا حق حاصل ہے مگر کچھ باتیں اور الفاظ سیاست کو زیب نہیں دیتے اور نہ ہی ان کی اجازت دی جا سکتی ہے ۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جے یو آئی نے حدود یعنی 'لائن کراس کی ہے اور اب انہیں اس کا پورا جواب دیا جائے گا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آئندہ جے یو آئی کو ریاست میں نوکریاں ملیں گی اور نہ ہی ریاست کی جانب سے فنڈز، پیسے یا ٹکٹ فراہم کیے جائیں گے ۔وزیر داخلہ محسن نقوی کی تقریر پر جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے احتجاج کیا، جس کے بعد ایوان میں شور شرابا شروع ہوگیا۔محسن نقوی اور کامران مرتضیٰ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ زبان سنبھال کر استعمال کریں، محسن نقوی نے کامران مرتضیٰ کے احتجاج پر کہا کہ آپ کو میری بات سننا پڑے گی، وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر تنقید کرتے ہیں تو جواب سننے کی ہمت بھی پیدا کریں۔
دورانِ اجلاس مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عابد شیر علی بھی غصے میں آگئے اور کامران مرتضیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے ، ماں کو گالیاں دیتے ہیں۔اس موقع پر عابد شیر علی اور جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے وزیر مملکت طلال چودھری نے عابد شیر علی کو بٹھا دیا۔محسن نقوی نے احتجاج کرنے والے ارکان سے کہا کہ اب ہمت کریں اور جواب سنیں، انہوں نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ کار نہیں کہ کوئی بھی اپنی مرضی کی بات کرے اور دوسرے کا مؤقف نہ سنے ۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ریاستی اداروں سے متعلق باتوں اور سیاسی اختلاف میں فرق ہونا چاہیے جبکہ تنقید کرنے والوں کو جواب سننے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کامران صاحب آپ کو سننا پڑے گا، انہوں نے اسلام کو کاروبار بنا رکھا ہے ، یہ ہر اس چیز کیلئے اسلام کو استعمال کرتے جس میں ان کا ذاتی فائدہ ہو، یہی لوگ آکر کہتے تھے گورنر راج لگائیں ہماری جان چھڑائیں ۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ ہمارا دورہ ایران دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا،کل مولانا فضل الرحمان نے غلط کہا کہ ہم دفاعی معاہدے کے لیے ایران گئے تھے ، موجودہ بحران سنبھالنے تہران گئے تھے ، میں شوق سے نہیں جاتا، مجھے وزیراعظم نے ٹاسک دیا ہوا ہے جس کی وجہ سے جاتا ہوں۔ مولانا صاحب نے اداروں کے حوالے سے غلاظت کہی۔وزیردفاع سے سوال کیا گیا ان کے علم میں نہیں تھا، ان کو اس لئے علم نہیں تھا کہ کیونکہ دفاع سے متعلق بات نہیں ہوئی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنائاللہ نے کہا نورین نیازی انتشار پھیلا نا چاہتی تھیں اس لیے جیل میں ہیں، شہدا کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے اور ماں کے متعلق نازیبا الفاظ قابلِ مذمت ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے پے درپے بیانات سے قوم کو تکلیف پہنچی ہے اور ریاست مخالف بیانات کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔ سینیٹر علی ظفر کے نکتہ نظر کا جواب دیتے ہوئے رانا ثنائاللہ نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق متعلقہ شخص اس وقت جوڈیشل کسٹڈی میں ہے اور معاملہ عدالتوں میں ہے ، اس لیے ریلیف وہیں سے حاصل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ کل نورین نیازی کو تکلیف پہنچی تھی، انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا اور اس وقت وہ جیل میں اس لیے ہیں کیونکہ وہ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی تھیں، لانگ مارچ کے ذریعے اسلام آباد پر حملہ کرنا چاہتی تھیں اور لوگوں کو ورغلا رہی تھیں۔ نورین نیازی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق ان کے تمام طبی ٹیسٹ اللہ کے فضل سے درست آئے ہیں اور انہیں ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی عزیز کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تو اس معاملے کا جائزہ لے کر قواعد و ضوابط کے مطابق ملاقات کی سہولت فراہم کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ رانا ثنا اللہ کی تقریر کے دوران سینیٹر مشال یوسفز ئی نے احتجاج بھی کیا۔ ایوان بالا میں پاکستان میں آبادی میں اضافے کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لئے فوری اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں جبکہ حکومتِ پر زور دیاگیاہے کہ وہ صوبائی حکومتوں، ارکانِ پارلیمنٹ، سرکاری و نجی شعبے کے عہدیداروں، ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد، علمائے کرام، سماجی رہنماں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے ملک گیر سطح پر جامع اقدامات کرے ۔
سینیٹر شیری ر حمن نے یہ قرارداد ایوان میں پیش کی ،قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہورہا تھا اور نہ ہی وہاں پاکستان کے دفاع کی بات ہو رہی تھی، تہران میں جو کچھ ہورہا تھا وہ وزارت دفاع کا مینڈیٹ نہیں تھا، وہاں میری موجودگی کی ضرورت نہیں تھی تاہم حالیہ دونوں دفاع کے معاہدوں میں بطور وزیر دفاع شریک تھا۔مجھے شرم اور حیا کرنے کا طعنہ دیتے ہیں، مولانا آپ بھی کچھ حیا اور شرم کریں، آپ 40 سال کن کن عہدوں کے مزے لیتے رہے ہیں، بتائیں 10 سال کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بن کر کیا خدمات انجام دیں ، آپ کا ماضی تضاد ات سے بھرا ہوا ہے ، یہاں کوئی آب زم زم سے دھلا ہوا نہیں ہے جتنی سیاست اور مذہب کو کمائی کا ذریعہ بنایا گیا، اتنا کسی نے نہیں بنایا۔خواجہ آصف کی تقریر کے دوران جے یو آئی (ف)کے ارکان نے شور شرابہ کیا، تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے ،جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے کورم کی بھی نشاندہی کردی تاہم گنتی کرانے پر کورم پورا نکلا ۔
خواجہ آصف نے مزید کہا فیلڈ مارشل وہاں صلح کرانے گئے تھے ، وہ صلح کے پیامبر بن کر تہران پہنچے ، انہوں نے ایک جنگ رکوائی ہے ، یمن کا تنازع بگڑ سکتا تھا، بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار کا اعتراف کرنا بنتا ہے ، آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔انھوں نے کہا مولانا کے والد بڑی عظیم شخصیت تھے جبکہ مولانا نورا کشتی کے تحت اپوزیشن لیڈر بنے ، کوئی ایسی پارٹی نہیں ہے ، سب کے ساتھ ان کا تعاون بھی رہا ہے حکمرانی میں شامل بھی رہے ہیں، وہ حکمرانی میں ہمارے حصہ دار تھے ، ہم سب نے مل کے حکومت بنائی اس میں مولانا کا بڑا حصہ تھا۔انہوں نے کہا کہ میں کسی وقت پنڈی کے حق میں بولتا ہوں تو میری 2004 کی تقریر یاد کرائی جاتی ہے ، انہوں نے کہا سب کے ساتھ وہ اقتدار میں شراکت میں رہے ہیں ، ماضی کو ڈیلیٹ کرکے مخالفوں پرجو اٹیک کرتے ہیں تو میرے میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہے ، میرا ماضی میرے دماغ میں فریش ہوتا ہے ، میں واحد سیاستدان ہوں جس نے ماضی پر معذرت کی ہو،ایل ایف او کے تحت حکومت بنی آپ حکمرانی میں حصہ دار تھے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آپ اپوزیشن لیڈر بھی تھے ، دس سال کشمیر کمیٹی کے بھی چیئرمین رہے ، کشمیر کے ساتھ کیا واسطہ ہے ان کا، یہ لوگ تو پاکستان کی آزادی کے خلاف تھے ، ان کو جو اعزازات دیئے گئے ہم نے دیئے غلط کیا، مجھے طعنہ دیتے ہیں آپ بھی تو کچھ شرم اور حیا کریں، کن کن مراعات کو انجوائے کیا ہے ۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے کیا کار ہا ئے نمایاں انجام دیئے ، فری رائیڈ لینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ وزیر دفاع نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میری زبان نہ کھلوائیں، انھوں نے مذہب اور سیاست کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ، پی ڈی ایم حکومت میں انھوں نے جو کچھ کیا پھر سب بتا دونگا۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ خواتین ابھی بھی چپ نہیں کر رہیں، مولانا کے پاس کوئی مرد نہیں بچا جو خواتین سے دفاع کروا رہے ہیں، میں آپ لوگوں کو گھر چھوڑ کر آؤں گا، یہ ا پنے لیڈر کی عزت نہیں کروانا چاہتے ۔ انہوں نے کہا ایوان میں 35 ،36 سال سے سیاست کر رہا ہوں۔ اس دوران خواجہ آصف نے شعر پڑھا کہ ‘میرے ماضی کو دبا رہنے دو، میرا ماضی ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں’، پاکستان نے اپنے اصلی دشمن کے خلاف فتح حاصل کی، انہوں نے اس کی تعریف نہیں کی، اگر تعریف کی تو اس میں کنجوسی سے کام لیا، یہ ایسا موقع تھا جس پر ساری قوم کو متحد ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا جے یو آئی والوں کو نصیحت کروں گا محنت کریں حسد نہ کریں، کل کا کچھ ادھار تھا جو میں نے آج اتار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا جے یو آئی کو خیبر پختونخوا حکومت میں حصہ دے دیا جاتا تو مولانا کل کی تقریر نہ کرتے ۔اس دوران جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے کہا کہ جو الزام لگائے جا رہے ہیں ان کا ثبوت دیا جائے ، اس پر خواجہ اصف نے کہا کہ آپ لوگوں کی جانب سے کل جو الزامات لگائے گئے ان کے کون سے ثبوت دئیے ، 10 سال بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی کیا کارکردگی رہی، بتائیں، صرف مراعات لینے کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔ایوان میں موجود لیڈروں کو قوم کو پیغام دینا چاہیے ، ہمیں گروہی اور مفادات کی سیاست نہیں کرنی چاہیے ، ہمیں اس ملک کی حفاظت اور ترقی کی سیاست کرنی چاہیے ، ہمیں دست و گریبان ہونے کے بجائے باہم راستے نکالنے چاہئیں ۔عالیہ کامران نے کہا جب کل مولانا تقریر کررہے تھے تو خواجہ آصف ہاتھ جوڑ رہے تھے ، اس وقت جواب دیتے ، لگتا ہے ان کو کوئی ڈائریکشنز آئی ہیں۔وفاقی وزیرریلوے حنیف عباسی اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کے درمیان بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حنیف عباسی خانہ بدوش ہیں ، جہاں گھاس پھوس ملے ادھر چلے جاتے ہیں، خواجہ آصف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے کلیے پر چلتے ہیں ، ن لیگ کی 2 تہائی اکثریت تھی اور مارشل لا لگا، جے یو آئی ف نے مذمت کی ہے ان لوگوں نے تو ایک قرارداد تک منظور نہیں کی ۔ ہم نے ضیا الحق کو چیلنج کیا تم اس کی پیداوار ہو، اس مسلم لیگ ن کی کیا تاریخ ہے ، ہم اور آپ پی ٹی آئی کو کہتے تھے کہ خان جہاں جاتا ہے وہاں آرمی چیف بھی ساتھ ہوتا ہے ، اب شہباز شریف اگر ایسا کرے تو بہت اچھا لیڈر ہوگیا۔حنیف عباسی نے کہا کہ یہ پاکستان نہ میرا ہے اور نہ آپ کا، یہ ان شہدا کی بیواؤں، ماؤں اور بچوں کا ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنا خون دیا۔ ہم اس پاکستان کو نہیں بھول سکتے جس نے ہمیں عزت دی، ہمیں بھی جیلوں میں ڈالا گیا اور ہمیں بھی چوٹیں لگیں، لیکن اس کے باوجود ہم پاکستان کو نہیں بھول سکتے ۔انہوں نے کہا ایسی بلیک میلنگ ہے کہ بلیک میلر بھی شرما جائیں، کوئی اپنی ماں کو تھو نہیں کہہ سکتا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جو اٹھتا ہے کہتا ہے کشمیر جا رہا ہے ، کے پی جا رہا ہے ، بلوچستان جا رہا ہے ، کو ئی مائی کالعل ایسا نہیں کر سکتا، پوری دنیا میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ڈنکے بج رہے ہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر پارلیمان کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ارکان کو کمیٹی میں بٹھائیں،اپوزیشن سے درخواست ہے آپ کے پاس جو طاقت ہے آپ اسے استعمال کرنا شروع کریں، الیکٹورل ریفارمز پر کمیٹی بناتے ہیں لیکن اپوزیشن شریک نہ ہو تو پھر کیا فائدہ۔ کم از کم الیکٹورل ریفارمز کمیٹی کے لئے اپنے ممبرز کے نام جمع کرا دیں۔الیکٹورل ریفارمز کمیٹی کی حد تک یہ فیصلے لیں۔اپوزیشن نے کمیٹیوں میں نہ بیٹھ کر پارلیمان کے کردار کو کمزور کیا ہے ۔پارلیمان طاقتور ہے توہم سب طاقتور ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میں کل موجود نہیں تھا جب مولانا نے تقریر کی،تقریروں میں بیان بازی ہے ایک دوسرے پر الزام تراشی ہے ۔وزیر خزانہ، خارجہ دفاع داخلہ ضرور آئیں اور ایوان کو بریف کریں۔بتادیں کہ کیا کیا خطرات کا امکان ہے ۔جو دہشت گردی کی صورت میں مسئلے ہیں اس کے بارے میں بریف کیا جائے ۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا کہ آپ بتائیں ایران میں کیا ہورہا ہے ، ہمیں اعتماد میں لیں، ہم آپ کا ساتھ دیں گے ، اب کوئی نیا نہیں آئے گا، ہم ہی سب ہیں اور ماضی کو بھول جائیں، آپ فرعون سے طاقت ور نہیں ہیں، وہ بھی ہار گیا تھا، نہ آپ اتنے اچھے ہیں نہ ہم اتنے برے ، مل کر بیٹھیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ آپ پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں،اب کیا بنگال کے بعد اس کو بھی توڑنا ہے ،خدا کو مانو، کیوں اس کو توڑنا چاہتے ہو اس کو مضبوط بناؤ ۔ ان کی تقریر کے دوران وفاقی وزیر حنیف عباسی نے اونچا اونچا بولنا شروع کر دیا۔اپوزیشن لیڈر نے کہا آپ سے جب بات کرتے ہیں آپ گالیاں دینا شروع ہوجاتے ہیں۔حنیف عباسی کعبہ شریف بھی گئے ہیں بتائیں کتنے پیسے دیئے ووٹ کیلئے ،میں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس حکومت میں کتنی کرپشن ہوئی ایک کمیٹی بنائیں۔خواجہ آصف، پیپلز پارٹی سمیت آپ سب سن رہے ہیں اس ایوان کو اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سر چشمہ بنائیں ، آپ کو یہ سارے ووٹ دینگے ، آپ پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں۔
آپ کہتے ہیں اسلام کا قلعہ کونسا قلعہ ؟ یہاں پیسے والا 40 ہزار میں گاڑی کی پٹرول ٹینکی فل نہیں کراسکتا اور غریب کو 20 ہزار میسر نہیں ہیں، کیا ایسے یہ ملک چل سکتا ہے ایسا نہیں ہوسکتا۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ افغانستان آپ کا اتنا اچھا دوست تھا کہ بھٹو نے اپنی کابینہ کا اجلاس وہاں کیا تھا،اگر مولانا افغانستان جانے کیلئے تیار ہوا تو ان کی وہاں رشتہ داریاں ہیں ،طالبان کو ہم نے قومی اثاثہ قرار دیا تھا یہ فوری طور پر ختم نہیں ہوسکتے ۔ چیخ و پکار اور گالیاں دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ادھر رکن قومی اسمبلی قیصر احمد شیخ نے ملک کی معاشی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات انتہائی خراب ہیں، ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے اور غربت انتہا کو پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت بہتر نہیں ہوگی تو صحت اور تعلیم کے لیے بجٹ میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ چھوٹے کاروبار ی افراد کو سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں اور جگہ جگہ رشوت کا مسئلہ ہے ، جبکہ ان کے بقول سب سے زیادہ رشوت ایف بی آر میں ہے ۔ انہوں نے ایف بی آر میں اصلاحات پر زور دیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس آج(جمعہ) تک ملتوی کر دیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments