پولیس بھاری نذرانے لیکر ملزموں کو ریلیف دینے لگی

پولیس بھاری نذرانے لیکر ملزموں کو ریلیف دینے لگی

فیصل آباد(عبدالباسط سے )پولیس افسروں و ملازمین کی جانب سے ڈکیتی، چوری، اغواء، راہزنی، تاوان، اور بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم کی وارداتوں میں ملوث ملزموں کو تفتیش کے دوران۔۔۔

مبینہ طور پر ریلیف دینے اورمقدمات اندراج کے وقت غلط دفعات شامل کئے جانے کے انکشافات سامنے آنے لگے ۔ملزموں کو ریلیف دینے کے عوض لاکھوں روپے کے بھاری نذرانے وصول کئے جانے کے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں جبکہ جرائم پیشہ عناصر کیخلاف غلط دفعات پرسخت قانونی کارروائیاں اور سزائیں نہ ہونے سے جرائم کی وارداتوں کے پھیلائومیں بھی اضافہ ہورہاہے ۔ ذرائع کے مطابق فیصل آباد ضلع بھر کے مختلف تھانہ جات میں تعینات افسروں و ملازمین کی جانب سے ڈکیتی، چوری، راہزنی، اغواء، تاوان، بھتہ خوری، منشیات فروشی، اور دیگر سنگین جرائم کی وارداتوں میں ملوث عناصر خطرناک جرائم پیشہ عناصر کو ریلیف دیتے ہوئے انکی مبینہ پشت پناہی کئے جانے کے انکشافات سامنے آنے لگے ہیں۔ مختلف تھانہ جات کے علاقوں میں مقدمات اندراج کے وقت دفعات غلط شامل کردی جاتی ہیں۔ بعد ازاں تفتیش کے دوران دفعات اور وقوعہ میں تضاد آنے سے ملزموں کو مبینہ طور پر بے گناہ بھی کردیا جاتا ہے اور عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران ملزم سخت سزائوں سے بھی محفوظ رہ جاتے ہیں اور و ہ

جیلوں سے باہر آکر زیادہ دیدہ دلیری اور کھلے عام جرائم کی وارداتیں کرتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق تین روز قبل تھانہ ٹھیکریوالا کے علاقے چک نمبر 72 ج ب کے قریب ڈاکوئوں نے واردات کے دوران اللہ دتہ کو فائرنگ کرکے زخمی کردیاتھا فائر مار کر زخمی کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی بجائے اقدام قتل کی دفعات لگادی گئیں۔ اسی طرح تھانہ ساندل بار کے علاقے میں 30جنوری 2024 کو 5 ڈاکوئوں نے غلام سے واردات کی ۔ جس کا مقدمہ نمبر 68 ایس ایچ او تھانہ ساندل بار زاہد اعوان کے حکم پر مبینہ طو رپر دفعہ 395 کے تحت درج کرنے کی بجائے 380/457دفعات کے تحت درج کرلیاگیا۔ ذرائع کے مطابق دفعہ 395 کے تحت درج کئے جانے والے مقدمہ کی مانیٹرنگ ڈائریکٹ آئی جی آفس میں کی جاتی ہے اور ان مقدمات کی رپورٹ بھی آئی جی آفس کی ہی طرف سے طلب کی جاتی ہے تو افسران بالا کی ناراضگیوں اور سزائوں سے محفوظ رہنے کیلئے ایس ایچ او زاہد اعوان نے مبینہ طور پر غلط دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ۔ جس کا براہ راست فائدہ ملزموں کو پہنچے گاجبکہ اسکے عوض ملزموں کو ریلیف مل جائیگا ۔ اسی طرح مقدمات اندراج کے وقت غلط دفعات کا استعمال کرتے ہوئے ملزموں کو فائدہ اور ریلیف دینے کے درجنوں واقعات سامنے آتے رہتے ہیں لیکن پولیس کے اعلیٰ حکام ان واقعات کی روک تھام میں ناکام ہیں۔ تاہم معاملے پر سٹی پولیس آفیسر علی ضیاء کا کہنا ہے کہ وارداتوں کی روک تھام اور جرائم پیشہ عناصر کی پکڑ دھکڑ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں