شہر میں ٹریفک جام رہنا معمول،زیادہ چالان کرنے پر زور

شہر  میں  ٹریفک  جام  رہنا  معمول،زیادہ  چالان  کرنے  پر  زور

فیصل آباد(عبدالباسط سے )شہر بھر کی مین شاہراہوں، چوک چوراہوں ، بازاروں اور دیگر اہم پوائنٹس پر ٹریفک کی لمبی قطاریں لگنا، ٹریفک جام رہنا معمول بن کر رہ گیا۔ جس سے شہریوں کا ایک سے دوسری جگہ پہنچا محال ہوکر رہ گیا۔

 ٹریفک کی روانی کو بہتر اور محفوظ بنانے کیلئے ٹریفک پولیس حکام اور اہلکاروں کی جانب سے اقدامات کرنے کی بجائے ٹریفک پولیس حکام کی اولین ترجیح صرف ٹریفک چالان کرتے ہوئے ریونیو کولیکشن بن کر رہ گئی۔ ٹریفک اہلکاروں کو بھی حکام کی جانب سے زیادہ سے زیادہ چالان کرنے کے اہداف سونپ دئیے گئے ۔ اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے چالان کی رقوم میں ٹریفک اہلکاروں کے پرافٹ بھی شامل کئے جانے کا انکشاف اہوا ہے ۔ جس پرٹریفک اہلکار صرف چالان کرنے کو اپنا بنیادی فریضہ سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ سے چالان کرنے میں ہی مصروف ہوگئے ۔ٹریفک روانی کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات نہ ہونے سے ٹریفک حادثات کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ فیصل آباد میں سٹی ٹریفک پولیس حکام اور اہلکاروں و افسروں کی ناقص کارکردگی، غفلت اور لاپراہی سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے ۔ ٹریفک روانی متاثر ہونے سے شہریوں کو ایک سے دوسری جگہ پہنچے میں کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں اور شہریوں کے ضروری امور تاخیر کا شکارہوجاتے ہیں۔ مین شاہراہوں، چوک چوراہوں اور دیگر اہم پوائنٹس پر ٹریفک اہلکار تو موجود دکھائی دیتے ہیں لیکن انکی جانب سے ٹریفک کی روانی کو بہتر اور محفوظ بنانے کیلئے کوئی بھی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے ، ناکہ بندی پراہلکار ایک ہی جگہ پر اکٹھے ہوجاتے ہیں اور انکی جانب سے موٹرسائیکلوں، گاڑیوں، رکشوں او ر دیگر وہیکلز کو روک کر انکے بھاری مالیت کے چالان کئے کرتے ہوئے اپنے ٹارگٹ حصول کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق ٹریفک پولیس حکام کی جانب سے فیلڈ فورس کو یومیہ کم از کم 20 چالان کرنے کا ہدف دیا گیا اور اس کو یقینی بنانے کیلئے چالان کی رقوم میں سے ٹریفک اہلکاروں کو مخصوص شرح کے مطابق الائونس فراہم کرنے کا بھی انکشاف ہواہے ۔ جس پر ٹریفک اہلکار اپنے الائونسز کی رقوم کو بڑھانے کیلئے گاڑیوں کو روک کر مختلف بہانے اور م اعتراضات پیش کرتے ہوئے انکے بھاری مالیت کے چالان کردئیے جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ٹریفک کی روانی بُری طرح متاثر ہورہی ہے ۔ سمندری روڈ، ستیانہ روڈ، جڑانوالہ روڈ، آٹھوں بازاروں، نڑوالا روڈ، جھنگ روڈ، کینال روڈ، شیخوپورہ روڈ، جھمرہ روڈ ، سوساں روڈ سمیت دیگر اہم مقامات ، اہم شاہراہوں اور دیگر پوائنٹس پر ٹریفک کی لمبی قطاریں لگنے سے کئی کئی گھنٹے ٹریفک بلاک رہتی ہے اور خصوصی طور پر اسکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز کی چھٹی اور صبح کے اوقات میں ٹریفک جام رہنا معمول ہے جس سے شہری شدید مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ ٹریفک پولیس حکام کی جانب سے ٹریفک روانی کو بہتر بنانے کے احکامات جاری کرنے کے ساتھ دعوے تو کئے جاتے ہیں لیکن کو عملی صورت دینے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے ۔ تاہم معاملے پر سی ٹی او فیصل آباد کاکہناہے کہ ٹریفک روانی کو بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں