فیصل آباد میں گداگری برقرار ، سال بھر میں 4 ہزار سے زائد پیشہ ور بھکاری گرفتار ، 1912 مقدمات بھی بے اثر

 فیصل آباد میں گداگری برقرار ، سال بھر میں 4 ہزار سے زائد پیشہ ور بھکاری گرفتار ، 1912 مقدمات بھی بے اثر

وارڈنز کے چوک چوراہوں سے ہٹتے ہی گداگر ٹریفک سگنلز پر ڈیرے ڈال لیتے ، ہوٹلوں پر کھانا کھانے والے شہریوں کیلئے بھی صورتحال اذیت ناک،گداگری کے خاتمے میں ناکامی کی بنیادی وجہ بیگر ہومز کا نہ ہونا:ذرائع

فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں) سال بھر میں چار ہزار سے زائد پیشہ ور گداگروں کو گرفتار کرنے اور 1912 مقدمات درج کرنے کے باوجود فیصل آباد میں گداگری کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 1493 پیشہ ور بھکاری خواتین، 2744 مرد گداگر اور 131 کمسن بچے بھیک مانگتے ہوئے پکڑے گئے ، تاہم سینکڑوں افراد کے شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث پولیس کو انہیں بغیر کارروائی چھوڑنا پڑا۔تفصیلات کے مطابق وارڈنز کے چوک چوراہوں سے ہٹتے ہی یہ گداگر ٹریفک سگنلز پر ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔ رات آٹھ بجے کے بعد ٹریفک سگنلز پر شہریوں کا رکنا مشکل ہو جاتا ہے ، جبکہ یہ بھکاری گلیوں اور بازاروں میں بھی خریداری کو دشوار بنا دیتے ہیں۔

حتیٰ کہ ہوٹلوں پر کھانا کھانے والے شہریوں کے لیے بھی صورتحال اذیت ناک ہو جاتی ہے ۔کئی گداگروں نے بیلچے اٹھا کر مزدوروں کا روپ دھار لیا ہے اور دیہاڑی نہ ملنے کا بہانہ بنا کر بھیک مانگتے ہیں، خواتین بھکاری شدید سردی میں ننھے بچوں کے ہمراہ شہریوں کے جذبات سے کھیلتے ہوئے بھیک مانگتی نظر آتی ہیں۔ذرائع کے مطابق شہر سے گداگری کے خاتمے میں ناکامی کی بنیادی وجہ بیگر ہومز کا نہ ہونا اور ضلعی انتظامیہ و پولیس کی عدم توجہی ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں