’’طلبہ کی ٹرانسپورٹ کو بلاجوازسڑکوں پر کھڑا رکھنا ناقابلِ برداشت ‘‘

’’طلبہ کی ٹرانسپورٹ کو بلاجوازسڑکوں پر کھڑا رکھنا ناقابلِ برداشت ‘‘

سی پی او اور سی ٹی او سے صورتحال کا فوری نوٹس لیں، ورنہ احتجاج کرینگے :میاں اعجاز

فیصل آباد(سٹی رپورٹر)پاسبان پک اینڈ ڈراپ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن پنجاب کے مرکزی صدر میاں اعجاز نے کہا ہے کہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں طالبات کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت فراہم کرنے والی ٹرانسپورٹ کو بلاجواز آدھا آدھا گھنٹہ سڑکوں پر کھڑا رکھنا اور اس دوران بچیوں کو ذہنی اذیت و ہراسانی کا سامنا ہونا سنگین اور ناقابلِ برداشت عمل ہے ۔ اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی، چنیوٹ بازار میں ٹرانسپورٹروں سے ملاقات پر کیا۔ میاں اعجاز نے ڈپٹی کمشنر، سی پی او اور سی ٹی او سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں، بصورتِ دیگر ٹرانسپورٹر برادری احتجاج پر مجبور ہوگی جسکی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا ٹریفک چالان اور جرمانوں کے نظام میں انصاف کا فقدان واضح طور پر نظر آتا ہے۔

ڈائیوو بسوں اور کیری ڈبوں کا ایک ہی کیٹیگری میں چالان کیا جانا کھلی ناانصافی ہے ۔ میٹرو گرین بسوں میں اوورلوڈنگ پردروازے تک بند نہیں ہوتے مگر پک اینڈ ڈراپ سروس میں اگر ایک اضافی سواری بٹھا لی جائے تو دس ہزار کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے ، جو دوہرے معیار کی بدترین مثال ہے ۔میاں اعجاز نے کہا ہم قانون شکنی کے قائل نہیں اور ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری چاہتے ہیں مگر قوانین کی آڑ میں ٹارگٹ چالاننگ اور مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیا جائے اور جرمانوں کا نظام زمینی حقائق اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ترتیب دیا جائے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں