شہر سے گزرنے والے 5بڑے کھلے نالے شہریوں کیلئے خطرہ
انتظامیہ وزیر اعلیٰ کی توجہ پرمین ہولز کے پیچھے بھاگ رہی مگر بڑا خطرہ نظر انداز شہرکے کئی علاقوں میں تو گھروں کا دروازہ کھلتا ہی کھلے نالے نالے کے اوپر ہے
فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)وزیر اعلیٰ مریم نواز کے احکامات کے بعد فیصل آباد میں بھی مین ہولز کور کرنے کی مہم جاری ہے لیکن کھلے سیوریج نالے اب بھی نظرانداز کیے جارہے ہیں شہر سے 5 بڑے نالے گزرتے ہیں جنکی لمبائی 52 کلومیٹر سے زائد ہے اور یہ کھلے نالے شہریوں کیلئے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں تفصیلات کے مطابق لاہور میں دلخراش واقعہ کے بعد وزیر اعلی ٰنے شدید برہمی کا اظہار کیا چیف سیکرٹری،کمشنر ،ڈپٹی کمشنر لاہور،اسسٹنٹ کمشنر اور ایم ڈی واسا سے جواب طلب کیا تبادلوں اور معطلیوں پرانتظامیہ مین ہولز کور کرنے میں لگ گئی ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں 1 لاکھ 70 ہزار مین ہولز ہیں جن میں سے 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد مین ہولز واسا کے اور باقی سوئی ناردرن گیس پائپ لائن،پی ٹی سی ایل اور دیگر نجی کمپنیوں کے ہیں انتظامیہ وزیر اعلیٰ کی توجہ پرمین ہولز کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔
جبکہ مین ہولز سے بھی بڑا خطرہ نظر انداز کیا جارہا ہے مین ہول میں گرنے کے امکانات بھی نالے کی نسبت کم ہوتے ہیں شہر میں پانچ بڑے نالوں کا 52 کلومیٹر کا نیٹ ورک ایسا ہے جو مختلف رہائشی علاقوں سے گزرتا ہے کئی علاقوں میں تو گھروں کا مین دروازہ کھلتا ہی کھلے نالے کے اوپر ہے جہاں رہائشیوں نے اپنی مدد آپکے تحت چھوٹے چھوٹے پل بنا رکھے ہیں بغیر حفاظتی اقدامات کے بنے ان پلوں سے بچے دن میں سینکڑوں بار گزرتے ہیں یہ نالے ابتک کئی لاشیں اگل چکے ہیں لیکن انکی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی شہریوں کا کہنا ہے کہ نالوں کو کور کروانا مین ہولز کو کور کروانے سے بھی زیادہ ضروری ہے کھلے نالوں پر چھت نہ ہونا بڑا مسئلہ ضرور ہے مگر ریاست کیلئے اس کا حل ناممکن نہیں ۔