گرانفروشی پر قابو نہ پایا جاسکا، اشیا کے من مانے نرخ
ماہ رمضان میں خشک مصالحہ جات و دیگر گروسری اشیاسمیت سبزی منڈیوں میں پھل ، سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ،ٖغریب عوام پریشان
فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں )رمضان المبارک میں ناجائز منافع خوری و گراں فروشی پر قابو نہ پایا جا سکا، اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں توازن اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے غریب عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دیے جانے کی توقعات دھری کی دھری رہ گئیں ہیں ، ہول سیل کی بڑی مارکیٹوں میں خشک مصالحہ جات و دیگر گروسری کی اشیاسمیت سبزی منڈیوں میں پھل اور روز مرا کی سبزی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں جس کی وجہ سے غریب روزہ دار کے لیے ماہ رمضان میں سحر و افطار کے لیے فروٹ کی خریداری محض خواب بن کر رہ گئی ، انگور 2500 سے 3 ہزار روپے فی کلو گرام ، بادانہ انار ، 2600 روپے ، دیسی انار 1600 سے 2000 روپے ، سٹرابری 1100 جبکہ قندھاری انار 1000 روپے فی کلو گرام بکنے لگا ، اسی طرح خربوزہ 450 روپے فی کلو گرام ، کینو 600 روپے درجن جبکہ کیلا 350 روپے بکنے لگا۔
اسی طرح آلو کی سرکاری قیمت فی کلو 20 روپے مقرر جبکہ مارکیٹ میں 30 سے 40 روپے فروخت ہونے لگا ہے ، پیاز 50 روپے جو کہ مارکیٹ میں 70 روپے فی کلو سے تجاوز کرگیا ہے جبکہ 75 روپے فی کلو والا ٹماٹر مارکیٹ میں 110 پر جاپہنچا ہے دوسری جانب سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد کروانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی حکمت عملی غیر موثر نظر آنے لگی ، شہریوں کے مطابق ماہ رمضان کے با برکت مہینہ میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی کی بجائے ہمیشہ کی طرح بڑھا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے سبزیاں ، پھل و دیگر اشیاء کی خریداری غریب کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے اور عام شہری پریشانی کا شکار ہے جسکی سب بڑی وجہ بڑی منڈیوں میں بیٹھے مافیا کی جانب سے سرکاری احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی قیمتوں میں پھل و سبزیاں بیچنا ہے جس پر عام مارکیٹ میں پرچون کے دکاندار بھی چیزوں کو مہنگا فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
جبکہ انار ، انگور سٹرابری سمیت مہنگے پھلوں کی قیمت کا تعین سرکاری ریٹ لسٹ میں بھی نہیں کیا جا رہا ، اسی حوالہ سے دکانداروں کا بھی کہنا ہے کہ جب تک منڈیوں میں نرخوں پر قابو نہیں پایا جاتا ام مارکیٹ میں مہنگائی کا خاتمہ نا ممکن ہے ، جبکہ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کی۔ طرف سے منڈیوں کے خلاف کوئی واضح کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہیں ، محض چھوٹی مارکیٹوں میں جرمانے اور دکانیں سیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ تاہم ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر کا کہنا ہے کہ تاحال ناجائز منافع خوری کے خلاف جاری کاروئیوں میں 600 کے قریب دکانیں سیل کی جا چکی ہیں جبکہ مارکیٹوں کی روز مرا چیکنگ کے لیے پیرا فورس کی 23 ٹیمیں جا کہ 70 مجسٹریٹ فیلڈ میں موجود ہیں ، عوام کی ریلیف دینے کے لیے مزید اقدامات بھی کر رہے ہیں۔