اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹائز یشن شہریوں کیلئے عذاب

 اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹائز یشن شہریوں کیلئے عذاب

انتقال،فرد اور رجسٹریوں کا نظام مفلوج ہوکر رہ گیا،اراضی ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنے کے منصوبے نے شہریوں کے مسائل کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دئیےسسٹم کا بار بار لنک ڈاؤن ہونا معمول بن چکا ،ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹائز ہونے سے قبل ہی مینوئل اندراج کا طریقہ کار بھی بند کر دیا گیا ،لوگ مایوس ہو کر جانے لگے

فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن شہریوں کے لیے عذاب بن گئی،انتقال،فرد اور رجسٹریوں کا نظام مفلوج ہوکر رہ گیا اراضی ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنے کے منصوبے نے شہریوں کے مسائل کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دئیے ۔اراضی ریکارڈ ڈیجیٹل کرنے کے نام پر انتقال، فرد کے اجرا اور رجسٹریوں کا عمل تقریباً ٹھپ ہو کر رہ چکا ہے سسٹم کا بار بار لنک ڈاؤن ہونا معمول بن چکا ہے جبکہ ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹائز ہونے سے قبل ہی مینوئل اندراج کا طریقہ کار بھی بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث سائلین شدید مشکلات کا شکار ہیں ذرائع کے مطابق اراضی ریکارڈ سنٹرز میں روزانہ کی بنیاد پر سسٹم بیٹھ جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں جس سے نہ صرف انتقالات کی منظوری رک گئی ہے بلکہ فرد کے اجرا اور جائیداد کی رجسٹری جیسے بنیادی امور بھی تعطل کا شکار ہیں شہری گھنٹوں انتظار کے بعد مایوس ہو کر واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔

جبکہ عملہ بھی سسٹم کی خرابی کو جواز بنا کر ہاتھ کھڑے کرتا نظر آتا ہے اراضی کی خرید و فروخت کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ کام مکمل طور پر رک جانے کے باعث کروڑوں روپے مالیت کے لین دین متاثر ہو رہے ہیں خریدار اور فروخت کنندگان دونوں شدید پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث نہ ادائیگیاں ہو پا رہی ہیں اور نہ ہی جائیداد کی منتقلی ممکن ہو رہی ہے اس صورتحال کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت بھی پیدا ہوچکی ہے اور سرکاری خزانے کو بھی بھاری نقصان کا سامنا ہے کیونکہ رجسٹریوں اور انتقالات پر عائد ٹیکس اور فیسیں جمع نہیں ہو رہیں شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں سسٹم کی خرابیوں کو دور کیا جائے اور مکمل ڈیجیٹل منتقلی تک مینوئل طریقہ کار کو بحال رکھا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں