میٹرک امتحانات میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ، پیسے دیکر سپرنٹنڈنٹ تعینات

 میٹرک امتحانات میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ، پیسے دیکر سپرنٹنڈنٹ تعینات

کلرک امتیاز احمد اور کنٹرولر سے مکمل طور پر ساز باز ،کریسنٹ ماڈل ہائر سکینڈری سکول سرگودھا روڈ میں خصوصی عملہ بھی تعینات کروایا گیا

فیصل آباد(عاطف صدیق کاہلوں )میٹرک کے امتحانات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ، یہ بات تب سامنے آئی جب محکمہ تعلیم کے ہی لیب اٹینڈنٹ قمر عباس نے ڈویژنل کمشنر و چیئرمین ایجوکیشن بورڈ کو مبینہ طور پر مالی و انتظامی بے ۔ ضابطگیوں میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ انکوائری کے لیے درخواست دے دی، درخواست کے مطابق با اثر لیب اٹینڈنٹ نجف نواز مبینہ طور پر بورڈ دفتر کے کلرک امتیاز احمد اور کنٹرولر سے مکمل طور پر ساز باز ہے جنہوں نے ڈیڑھ لاکھ روپے کی مبینہ رشوت لیکر خرم ظہیر کو جامعہ چشتہ ہائی سکول میں سپرنٹنڈنٹ تعینات کروا دیا گیا، جبکہ بعد خرم ظہیر نے ڈی پی ایس سکول کے بچوں کو امتحانات میں مدد کیلئے مبینہ طور پر دس لاکھ روپے رشوت وصول کی ، مزید براں درخواست کے مطابق تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر امتحانات نے بھی اپنے بیٹے کو امتحانات میں مدد کیلئے ایک منظور نظر شخص کو سپرنٹنڈنٹبھی لگوا لیا۔

جبکہ درخواست میں مورود الزام مذکورہ افراد کی جانب سے کریسنٹ ماڈل ہائر سکینڈری سکول سرگودھا روڈ میں خصوصی عملہ بھی تعینات کروایا گیا، الزامات کے مطابق نجف نواز کے ایک دست راست نے مبینہ طور پر 80 ہزار روپے رشوت کے عوض 49 ج ب میں انوار نامی شخص کو بھی سپرانٹینڈنٹ تعینات کروایا، جس کے بعد سپرانٹینڈنٹ انوار امتحان شروع ہونے سے 20 منٹ پہلے حل شدہ معروضی پیپر وٹس ایپ کرنے کے عوض 15 ہزار روپے فی کس رشوت لے رہا ہے ، درخواست دہندہ کے مطابق نجف نواز، امتیاز احمد اور محمد امین نے آپس میں ساز باز کرتے ہوئے مبینہ طور پر 51 ج ب سجاداں میں تقریباً 500 بچوں کا داخلہ بھی غیر قانونی طور پر بھیجوایا جبکہ 51 ج ب سجاداں کے سپرنٹنڈ نٹ انوار احمد امتحانات میں غیر قانونی مدد کے لیے طلبہ سے 30 ہزار روپے فی کس رشوت بھی لے رہے ہیں ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں