گوجرہ میں مضر صحت دودھ کی فروخت جاری، انتظامیہ خاموش
دودھ میں 30 سے 40 فیصد تک پانی کی ملاوٹ کر کے فروخت کیا جا رہا ہے
گوجرہ (نامہ نگار)شہر اور گردونواح میں مبینہ طور پر مضر صحت اور کیمیکل ملے دودھ کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے ، جبکہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے پر شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔مختلف علاقوں میں دودھ فروش مبینہ طور پر دودھ میں 30 سے 40 فیصد تک پانی کی ملاوٹ کر کے فروخت کر رہے ہیں، جبکہ بعض ذرائع کے مطابق دودھ کو گاڑھا کرنے کے لیے یوریا اور دیگر نقصان دہ کیمیکل بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ 180 سے 200 روپے فی کلو دودھ خریدنے کے باوجود چند گھنٹوں میں دودھ کے خراب ہو جانے کا سامنا کر رہے ہیں۔
جس کے باعث بچوں کو دودھ پلانے سے بھی خوف محسوس ہوتا ہے ۔عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ فوڈ اتھارٹی، میونسپل کمیٹی اور اسسٹنٹ کمشنر آفس کی ٹیمیں کہاں ہیں، جبکہ مبینہ طور پر روزانہ سینکڑوں لٹر غیر معیاری دودھ مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے ۔ماہرین صحت کے مطابق کیمیکل ملا دودھ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے ۔شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ، سی ای او فوڈ اتھارٹی اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔