بجٹ محنت کشوں کے بجائے اشرافیہ کیلئے ہے : پریم یونین

 بجٹ محنت کشوں کے بجائے اشرافیہ کیلئے ہے : پریم یونین

موجودہ پارلیمنٹ عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں بلکہ اشرافیہ کا ایک کلب بن چکی

فیصل آباد (سٹی رپورٹر)پاکستان ریلوے پریم یونین کے چیئرمین محمد ضیاء الدین انصاری، صدر شیخ محمد انور، سیکرٹری جنرل خیر محمد تونیو، سینئر نائب صدر عبدالقیوم اعوان، چیف آرگنائزر خالد محمود چوہدری، ڈپٹی چیف آرگنائزر جنید خرم اور ڈپٹی میڈیا کوآرڈینیٹر عاطف رزاق نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ موجودہ وفاقی بجٹ عوامی امنگوں اور محنت کش طبقے کی توقعات کے مطابق نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ مظلوم، مجبور اور مزدور عوام کا نہیں بلکہ صرف دو فیصد اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے ۔ ان کے مطابق موجودہ پارلیمنٹ بھی عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں رہی بلکہ اشرافیہ کا ایک کلب بن چکی ہے ۔

رہنماؤں نے کہا کہ ملک کے 98 فیصد عوام کو سیاسی، علاقائی اور مسلکی بنیادوں پر تقسیم کر کے اشرافیہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہے ، لہٰذا عوام کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے عملی جدوجہد کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، ادویات اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ، جبکہ تنخواہوں میں صرف معمولی اضافہ محنت کشوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید بڑھا دے گا۔ان کے مطابق اراکین اسمبلی اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی مراعات اور تنخواہوں میں بڑے اضافے کیے جاتے ہیں، لیکن مزدوروں اور ملازمین کے لیے کفایت شعاری کا جواز پیش کیا جاتا ہے ، جو ایک دوہرا معیار ہے ۔انہوں نے کہا کہ کم از کم اجرت میں اضافہ بھی موجودہ مہنگائی کے مقابلے میں ناکافی ہے اور ایک عام مزدور اپنے بنیادی اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں