تشہیری بورڈز کی خستہ حالی، انسانی جانوں کو خطرات
مین جڑانوالہ روڈ پر بورڈ آ ندھی سے گر گیا ،خوش قسمتی سے راہگیر محفوظ رہے ، اشتہاری ڈھانچوں کی نگرانی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )بڑے تشہیری بورڈز کی بروقت انسپکشن اور مرمت نہ ہونے کے باعث انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہونے لگے ہیں۔ مین جڑانوالہ روڈ پر آشیانہ ہاؤسنگ کالونی کے قریب پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (PLDC) کا خستہ حال تشہیری بورڈ آندھی کے دوران زمین بوس ہوگیا، جس سے ممکنہ بڑے حادثے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔جڑانوالہ روڈ پر آشیانہ ہاؤسنگ کالونی کے قریب نصب پی ایل ڈی سی کا بڑا تشہیری بورڈ دو روز قبل چلنے والی آندھی کے دوران اچانک زمین بوس ہوگیا۔ خوش قسمتی سے بورڈ کے قریب موجود پھل اور سبزی فروش اور راہگیر محفوظ رہے ، تاہم واقعے نے اشتہاری ڈھانچوں کی نگرانی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق مذکورہ مقام پر روزانہ شہریوں کا رش رہتا ہے جبکہ سڑک کنارے پھل اور سبزی فروشوں کے اسٹالز بھی قائم ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ دیوہیکل ڈھانچہ مصروف اوقات میں گرتا تو متعدد افراد زخمی یا جاں بحق ہو سکتے تھے ۔شہریوں کے مطابق گرنے والا بورڈ کافی عرصے سے خستہ حالی کا شکار تھا اور اس کے لوہے کے فریم، جوڑوں اور سپورٹنگ اسٹرکچر کی حالت بھی تسلی بخش نہیں تھی۔ اس موقع پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنے بڑے اشتہاری ڈھانچے کی آخری مرتبہ تکنیکی جانچ کب کی گئی اور اسے کس بنیاد پر محفوظ قرار دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق بڑے تشہیری بورڈز کے لیے متعدد حفاظتی تقاضے اور قواعد موجود ہیں جن پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہوتا ہے ، جن میں بورڈز کے درمیان مناسب فاصلہ، ٹریفک میں رکاوٹ نہ بننا، فریم اور ویلڈنگ کی باقاعدہ جانچ، زنگ آلود حصوں کی بروقت مرمت، تیز ہواؤں کے پیش نظر اسٹرکچرل سیفٹی آڈٹ اور باقاعدہ انسپکشن ریکارڈ کی دستیابی شامل ہے ۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف گرنے والے بورڈ تک کارروائی محدود نہ رکھی جائے بلکہ شہر بھر میں نصب تمام بڑے تشہیری بورڈز کا ہنگامی سیفٹی آڈٹ کیا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصل آباد کی مختلف شاہراہوں، چوکوں اور رہائشی علاقوں کے قریب درجنوں ایسے بورڈ موجود ہیں جو بظاہر خستہ حالی کا شکار ہیں۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر فیصل آباد اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افسران و اہلکاروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس نوعیت کے مزید حادثات کسی بڑے جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔