ٹرینوں کی آ مدورفت نہ ہونے سے وزیر آ باد جنکشن ویران
وزیرآباد(ڈسٹرکٹ رپورٹر )وزیرآباد سے فیصل آباد تک ٹرینوں کا سفر ایک ایسا منظر ہوتا تھا جو ہر سٹیشن کو زندگی سے بھر دیتا تھا۔
پلیٹ فارمز پر لوگوں کی ہنسی خوشی، ٹرینوں کی آہٹ اور سٹیشنوں کی روشنیوں کا منظر یہ سب اس وقت کی زندگی اور ترقی کا حصہ تھے لیکن 2011 کے بعد یہ منظر بتدریج بدلنے لگا۔ انفراسٹرکچر کی نااہلی، خدمات کی کمی، اور اسٹیشنوں کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ریلوے کی تباہی کا آغاز ہو گیا۔ جب حکمرانوں نے اس پُرتاریخ، سستے اور منافع بخش سفر سے دھیان ہٹایا، تو اس کے اثرات نے نہ صرف سٹیشنوں کی رونق چھینی بلکہ عوام کی سہولت بھی ختم کر دی۔ پلیٹ فارمز خالی ہو گئے ،
ریلوے ٹریکس کی شور و غل اب صرف پرانی یادوں میں محسوس ہوتی ہے ، اور وہ جگہ جو کبھی زندگی سے بھری ہوئی تھی، آج اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انگریز ہمیں نہری نظام اور ریلوے کا ایک مضبوط، منظم ڈھانچہ دے کر گئے تھے۔ایسا نظام جو زراعت، تجارت اور عوامی سفر کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔مگر افسوس، آزادی کے بعد ہم نہ اس نہری نظام کی مکمل حفاظت کر سکے اور نہ ہی اس ریلوے کے ڈھانچے کو سنبھال سکے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ قیمتی قومی اثاثے ہماری غفلت اور بدانتظامی کی نذر ہوتے چلے گئے ۔