فرنیچر نہ اساتذہ 4 سال سے گرلز ہائی سکول ویران
گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کوٹ اسحق کی عمارت طالبات کی منتظر، نجی سکولوں کے اخراجات برداشت نہ ہونے پر لڑکیاں تعلیم سے دور ، سکول کو فوری فعال کرنے کا مطالبہ
لدھیوالہ وڑائچ،عالم چوک (نامہ نگار ، نمائندہ خصوصی )ایک لاکھ کی آبادی والے علاقے کوٹ اسحاق میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کی عمارت کی تعمیر مکمل ،4 سال سے محکمہ تعلیم کے حوالے کئے جانے بعد بھی فرنیچر فراہم کیا جا سکا او ر نہ ہی کلاسز کا اجرا ہو سکا۔بتایا گیا ہے کہ میونسپل کمیٹی لدھیوالہ کے علاقے کوٹ اسحاق کے گلہ ولی محمد چہل والا میں حکومت کی جانب سے ایک ایکڑ پر کروڑوں روپے کی لاگت سے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کی تعمیر ہونے والی عمارت4سال سے محکمہ تعلیم کے حوالے ہونے کے باوجود ویران پڑی ہے ، محکمہ تعلیم 4سال میں نہ تو سکول کیلئے فرنیچر فراہم کر سکا اور نہ ہی اساتذہ کی تعیناتی ہو سکی اور نہ ہی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ممکن بنایا جا سکا جس کی وجہ سے طالبات کو شدید سردی او ر نامساعد حالات میں لدھیوالہ وڑائچ اور گوجرانوالہ کے تعلیمی اداروں میں تعلیم جاری رکھنے کیلئے جانا پڑتا ہے ۔ اس حوالے سے والدین نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ بیشتر خاندان غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو بیٹیوں کو مہنگے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں داخل کر انے کی استطاعت نہیں رکھتے طالبات کیلئے سفری اخراجات مالی بوجھ ہے ۔ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ اگر کوٹ اسحاق میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول فعال کر دیا جائے ہزاروں طالبات جو پرائیویٹ سکولوں کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے پر تعلیمی سلسلہ ادھورا چھوڑ چکی ہیں وہ دوبارہ زیور تعلیم سے آراستہ ہو سکتی ہیں والدین نے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں فرنیچر کی فراہمی اساتذہ کی تعیناتی اور کلاسز کے اجرا کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہماری بیٹیاں اپنے ہی علاقے میں معیاری تعلیم حاصل کر سکیں ۔