جی ٹی روڈ سمیت 7 اہم شاہرائوں کو ماڈل روڈز بنانے کا منصوبہ ختم

جی ٹی روڈ سمیت 7 اہم شاہرائوں کو ماڈل روڈز بنانے کا منصوبہ ختم

میگا ترقیاتی منصوبوں کے باعث ٹریفک مسائل میں اضافہ ،گھنٹوں ٹریفک جام رہنا معمول بن چکا

گوجرانوالہ (سٹی رپورٹر) پنجاب حکومت کی زیر نگرانی اندرون شہر میٹرو روٹس منصوبے پر کام جاری ہے تاہم گوجرانوالہ کے جی ٹی روڈ سمیت سات اہم شاہراؤں کو ماڈل روڈز بنانے کا منصوبہ ختم کر دیا گیا ہے ۔ سنگل فری جی ٹی روڈ کی تعمیر و ترقی کے منصوبے کا آغاز تو کر دیا گیا ہے لیکن ترقیاتی کاموں کے باعث ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہو رہا ہے ۔جناح انٹرچینج راولپنڈی سے اندرون شہر شاہین آباد تک جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف ترقیاتی کام جاری ہیں جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہے ۔ اسی طرح چندا قلعہ سے کنگنی والا تک جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف کام ہو رہا ہے جبکہ ایمن آباد سے کامونکی تک جی ٹی روڈ کو کشادہ کرنے کیلئے جاری ترقیاتی سرگرمیوں کی وجہ سے شہریوں کو شدید ٹریفک مشکلات کا سامنا ہے ۔ذرائع کے مطابق جی ٹی روڈ کو سگنل فری بنانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے تاہم سڑک کو کشادہ کرنے کے دوران ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکومتی اداروں کو شدید مشکلات درپیش ہیں جبکہ کمرشل عمارتیں بڑی رکاوٹ بننے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ریڑھیوں اور گڈز کی رجسٹریشن کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا تاہم افسران کی تبدیلی کے بعد شہر کی خوبصورتی اور اہم شاہرات کو ماڈل روڈز بنانے کا منصوبہ ٹھپ ہو گیا۔ اندرون شہر بڑی کمرشل عمارتوں اور پلازوں کی اجازت کے بغیر تعمیرات پر پابندی عائد کی گئی تھی تاکہ پارکنگ کے مسائل پیدا نہ ہوں۔

 

، لیکن میونسپل کارپوریشن کے افسران اور بلڈنگ انسپکٹرز کی غفلت اور مبینہ ملی بھگت سے جی ٹی روڈ سمیت اہم شاہرات پر سینکڑوں نئی کمرشل عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں۔شہر میں ہیوی ٹریفک کی موومنٹ کے اوقات کار کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا لیکن ٹریفک کی روانی کے لیے مرتب کردہ جامع ٹریفک مینجمنٹ پلان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ جی ٹی روڈ کو سگنل فری بنانے کے لیے جاری کام اور دیگر میگا ترقیاتی منصوبوں کے باعث ٹریفک مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے اور گھنٹوں ٹریفک جام رہنا معمول بن چکا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں