لالہ موسیٰ: ماسٹر پلان نہ ہونے ، کمرشل علاقوں کی غیرواضح تقسیم سے شہریوں تاجروں کو مشکلات
نقشہ منظوری، کنورژن فیس ، تعمیرات بارے تنازعات معمول بن گئے ، دکانوں، گوداموں کو کبھی سیل کرنا اور چند روز بعد کھول دینا انتظامی شفافیت پر سوالات اٹھا نے لگا
لالہ موسیٰ( نمائندہ دنیا)لالہ موسیٰ میں جدید ماسٹر پلان نہ ہونے پرشہریوں اور تاجروں کو سخت مشکلات، شہر میں کمرشل ونان کمرشل علاقوں کی غیر واضح تقسیم نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا جسکے باعث نقشوں کی منظوری، کنورژن فیس اور تعمیرات بارے تنازعات معمول بنتے جا رہے ہیں،شہر میں قیامِ پاکستان سے قبل آباد محلوں میں دکانوں اور گوداموں کو کبھی سیل کرنا اور چند روز بعد کھول دینا انتظامی شفافیت پر سوالات اٹھا رہا ہے ۔ یہ شکایت بھی سامنے آ رہی ہے کہ ایک ہی سڑک پر متعدد دکانیں کمرشل مگر درمیان میں بعض املاک کو نان کمرشل قرار دیکر کنورژن فیس طلب کی جاتی ہے ، انتظامیہ اب بھی انیس سو اسی کے ماسٹر پلان کا حوالہ دیتی ہے حالانکہ شہر کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے ، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لالہ موسیٰ کیلئے فوری جامع اور قابلِ عمل ماسٹر پلان منظور کیا جائے جبکہ اس حوالے سے سی او میونسپل کمیٹی لالہ موسیٰ تنویر عباس گجر کاکہناہے کہ ماسٹر پلان پر محکمہ لوکل گورنمنٹ کا اربن ڈویژن کام کر رہا ہے ،توقع ہے کہ لالہ موسیٰ کا نیا ماسٹر پلان جلد نافذ ہو جائیگا۔