سیلاب سے تباہ پل کی عدم تعمیر: 85دیہات کے مکینوں کو مشکلات
گزشتہ سال سیلاب میں سڑکیں اور پل بہہ گئے ، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے با عث حادثات ،ارکان اسمبلی کی جانب سے توجہ نہ دینے پر علاقہ مکین نالاں
سیالکوٹ (نمائندہ دنیا )گزشتہ سال سیلاب کی نذر ہونے والا پل تعمیر نہ ہوسکا، دیہاتیوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ سیالکوٹ سے بجوات کے 85 دیہات کو ملانے والی اکثر وبیشتر چھوٹے بڑے پل اور سٹرکیں گزشتہ سال آنے والے سیلابی پانی کی نذر ہوگئے تھے جس پر علاقہ مکینوں کی متعدد بار شکایات کے باوجود کوئی پیشرفت نہ ہوسکی ،سٹرکیں اور پل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے آئے روز حادثات معمول بن گئے ہیں۔ دیہاتیوں عبدالرحمن، محمد فاروق، فرحان گجر، نوید اکبر، فلک شیر، منیر حسین، شبیر حسین، عبدالملک ،نور حسین، حق نواز، ملک اعظم، احتشام الحق، حافظ غلام عباس، نو ردین، محمد دین، شہباز خان، عبدالجبار، عبدالرشید ودیگر نے بتایا کہ 8ماہ گزرنے کے باوجود پل کی تعمیر کا کام نہ ہوسکا جبکہ برسات کے موسم کی آمد آمد ہے ۔ ایم این اے ارمغان سبحانی، ایم پی اے رانا عارف اقبال ہرناہ اس علاقہ کا دورہ تک نہیں کرتے اور عوامی مسائل سے ان کو کوئی سروکار نہیں وہ صرف ووٹ لینے کیلئے بجوات کے دیہات میں آتے ہیں ، سیلابی پانی سے تباہ ہونیوالی سٹرکوں اور پلوں کی وجہ سے سکول جانے والے بچے اور بچیاں، سیالکوٹ میں کام کیلئے جانیوالے سینکڑوں مزدور اور فیملیز شدید کرب میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف ،وفاقی وزیر ارمغان سبحانی،ممبر صوبائی اسمبلی رانا عارف اقبال ہرناہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بجوات کے 85 دیہات کے عوامی مسائل کو حل کیا جائے ۔