ٹی ایچ کیوہسپتال نوشہرہ ورکاں میں ڈائیلسز سنٹر 2سال سے بند
ویڈیو بنانے والے نوجوان پر مبینہ تشدد، شفاف انکوائری کا مطالبہ کردیاگیا
نوشہرہ ورکاں (تحصیل رپورٹر) نوشہرہ ورکاں میں تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال کا ڈائیلسز سنٹر دو سال سے غیر فعال ہے ، جس کے باعث گردوں کے سینکڑوں مریض علاج کی سہولت سے محروم ہو کر گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور حافظ آباد کے ہسپتالوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔مقامی شہریوں کے مطابق کروڑوں روپے کی لاگت سے قائم کیے گئے ڈائلسزسنٹر میں مشینری اور عمارت موجود ہے ، تاہم عملہ تعینات نہ ہونے کے باعث یہ مرکز تاحال فعال نہیں ہو سکا، جس سے غریب مریضوں پر شدید مالی بوجھ بھی بڑھ رہا ہے ۔
اسی دوران بند ڈائیلسز سینٹر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے نوجوان علی زبیر کے ساتھ مبینہ طور پر پیش آنے والے واقعے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔ الزام ہے کہ ویڈیو بنانے پر اسے پولیس کے حوالے کیا گیا، جہاں مبینہ طور پر تشدد، تذلیل اور تقریباً 12 گھنٹے حوالات میں بند رکھا گیا۔علی زبیر نے رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دعویٰ کیا کہ اسے عوامی مسئلہ اجاگر کرنے کی پاداش میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔، جبکہ اس کے گھر پر بھی چھاپے مارے گئے ۔ نوجوان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سی پی او غیاث گل سے فوری نوٹس لینے اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے ۔دوسری جانب ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال مقصود ظفر مان نے موقف دینے سے گریز کیا۔ ایس ایچ او ریاض گوندل کے مطابق ہسپتال انتظامیہ کی تحریری درخواست پر نوجوان کو حراست میں لیا گیا اور صلح صفائی کے بعد رہا کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے قانونی کارروائی کی۔شہری و سماجی حلقوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈائلسز سنٹر کو فوری فعال کرنے اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔