آئوٹ سورنگ کے بجائے وسائل سکولوں کو دیں :عرفان صفی
آئوٹ سورنگ کے بجائے وسائل سکولوں کو دیں :عرفان صفی نواز شریف سکول آف ایمیننس نامی ادارے کو فی طالبعلم 4ہزار سبسڈی دی جا رہی
لالہ موسیٰ (نمائندہ دنیا )پنجاب حکومت ایک طرف صوبہ بھر کے سینکڑوں سرکاری سکولوں کو آؤٹ سورسنگ کے نام پر نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب نواز شریف سکول آف ایمیننس کے نام سے نئے نجی تعلیمی اداروں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے فی طالبعلم تقریباً 4 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے اگر حکومت کے پاس وسائل موجود ہیں تو ان وسائل کا پہلا حق پہلے سے موجود سرکاری سکولوں کا ہے جنہیں بہتر بنا کر زیادہ مؤثر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں، جماعت اسلامی کے رہنما و سابق ناظم لالہ موسیٰ چودھری عرفان احمد صفی نے اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب کے ہزاروں سرکاری سکول عوام کی امانت ہیں، ان کی زمینیں اور عمارتیں مقامی لوگوں نے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کیلئے وقف کیں، اس امید کے ساتھ کہ یہاں ہمیشہ ریاست کی نگرانی میں تعلیم فراہم کی جائے گی،آج انہی اداروں کو مرحلہ وار نجی شعبے کے سپرد کیا جا رہا ہے جس سے عوامی اعتماد اور ریاستی ذمہ داری کے حوالے سے سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نجی اداروں میں جدید لیبارٹریوں، سمارٹ کلاس رومز، روبوٹکس اور دیگر سہولیات کیلئے وسائل مختص کر سکتی ہے تو یہی سہولیات پہلے سے موجود سرکاری سکولوں میں فراہم کی جانی چاہئیں، نئے ناموں اور الگ نظام قائم کرنے کے بجائے موجودہ تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانا زیادہ دانشمندانہ اور عوامی مفاد کے مطابق ہے ، عرفان احمد صفی نے مطالبہ کیا کہ حکومت سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے عمل، نجی اداروں کو فراہم کیے جانے والے فنڈز اور ان کے استعمال کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائے ، انہوں نے کہا کہ تعلیم کوئی کاروبار نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور سرکاری سکول کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہیں، حقیقی تعلیمی انقلاب نئے ناموں سے نہیں بلکہ موجودہ نظام کی بہتری سے آئیگا۔