مضبوط ریسرچ کلچر کے بغیر قومی ترقی کا خواب ادھورا، پرویز اشرف
جامعات کو محض تدریسی مراکز کے بجائے تحقیق، اختراع اور علم کی تخلیق کے مراکز بنانا ہوگا
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر)سابق وزیرِاعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی پائیدار اور متوازن ترقی کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیش رفت ناگزیر ہے ۔ جدید دور میں وہی قومیں ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہیں جو تحقیق، جدت اور سائنسی علوم کو اپنی قومی پالیسیوں کا بنیادی ستون بناتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں فرنٹیئر اِن سائنس کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی، سماجی اور ماحولیاتی چیلنجز کا موثر اور دیرپا حل جدید سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی کے فروغ اور اختراعی سوچ کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ تعلیمی اداروں، بالخصوص جامعات کو محض تدریسی مراکز کے بجائے تحقیق، اختراع اور علم کی تخلیق کے مراکز میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ریسرچ کلچر کے بغیر قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔