بائیو سیفٹی رولز 2005میں ترامیم کی منظوری دے دی گئی

بائیو سیفٹی رولز 2005میں ترامیم کی منظوری دے دی گئی

درآمد کنندگان علیحدہ لائسنس کے بغیر منظور شدہ جی ایم او اجناس درآمد کر سکیں گے

اسلام آباد (دنیا رپورٹ) پاکستان نے جی ایم او سے متعلق اپنے ریگولیٹری نظام کو مزید نرم اور جدید بنانے کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے پاکستان بائیو سیفٹی رولز 2005میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی منظوری دے دی ۔یہ اعلان اتوار کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے کیا۔انہوں نے بتایا کہ ان اصلاحات کے پاکستان کی خوردنی تیل اور پولٹری صنعت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اہم ترامیم میں 2024میں نافذ کی گئی سن سیٹ کلاز کا خاتمہ شامل ہے۔

مجوزہ ترامیم کے بعد سویابین اور کینولا سمیت جی ایم او اجناس کی درآمد بغیر کسی آخری تاریخ کے جاری رہ سکے گی جبکہ جامعات اور نجی تحقیقی اداروں کی انسٹیٹیوشنل بائیوسیفٹی کمیٹیوں کو طلبہ کی لیبارٹری تحقیقاتی سرگرمیوں کی منظوری کے زیادہ اختیارات دئیے گئے ہیں۔ نئے فریم ورک کے تحت بین الاقوامی بائیوٹیکنالوجی کمپنیاں مخصوص جی ایم او ایونٹس کیلئے براہ راست لائسنس کی درخواست دے سکیں گی۔ نیشنل بائیو سیفٹی کمیٹی سے منظوری کے بعد یہ لائسنس پاک ای پی اے کی ویب سائٹ پر جاری کیے جائیں گے، نجی درآمد کنندگان علیحدہ لائسنس کے بغیر منظور شدہ جی ایم او اجناس درآمد کر سکیں گے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں