موسمیاتی بحران سے سمندری وسائل کو خطرات لاحق
سمندری وسائل کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ،وزارت موسمیاتی تبدیلی
اسلام آباد (دنیا رپورٹ ) وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے عالمی یوم سمندر پر سمندری حیاتیاتی تنوع، ساحلی آبادیوں کے روزگار اور بلیو اکانومی کے تحفظ کیلئے مشترکہ قومی کوششوں پر زور دیا ہے ۔وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دنیا بھر میں آج عالمی یوم سمندر 2026 ری امیجن ہماری موجودہ دنیا سے آگے ، سمندر کے ساتھ ایک نیا تعلق کے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے ۔ اس موقع پر وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے موسمیاتی تبدیلی، آلودگی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور قدرتی وسائل کے غیر پائیدار استعمال سے پاکستان کے سمندری ماحولیاتی نظام کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وزارت کے مطابق سمندر عالمی موسمیاتی نظام کو متوازن رکھنے ، آکسیجن کی فراہمی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور لاکھوں افراد کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ سمندری ماحولیاتی نظام کی تباہی نہ صرف ساحلی آبادیوں بلکہ غذائی تحفظ، معاشی استحکام اور موسمیاتی لچک کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے ۔ وزارت کے ترجمان اور ماہر موسمیاتی پالیسی سلیم شیخ نے کہا کہ پاکستان کی 1050 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی، مینگرووز کے جنگلات، ماہی گیری کے وسائل اور ساحلی آبی ذخائر سمندری سطح میں اضافے ، ساحلی کٹاؤ، آلودگی اور شدید موسمی واقعات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سمندر کو محض وسائل کے ذخیرے کے بجائے ایک مشترکہ امانت سمجھتے ہوئے اس کے محافظ کا کردار ادا کریں۔