خواجہ سرا اور بین الجنس افراد کی شمولیت کے موضوع پر ویبینار
ویبینار نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی کے زیر اہتمام ہوا ،مختلف پہلو پر غور
اسلام آباد (دنیا رپورٹ ) نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی (NIPP)، جو نیشنل سکول آف پبلک پالیسی (NSPP) کا ایک اہم جزو ہے ، نے \"ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا/بین الجنس افراد کی شمولیت کیا ٹرانس جینڈر پرسنز (تحفظِ حقوق) ایکٹ 2018 کافی ہے ؟ کے عنوان سے ایک ویبینار کا انعقاد کیا۔ ویبینار کا مقصد پاکستان میں خواجہ سرا اور بین الجنس افراد کے حقوق، شمولیت اور تحفظ کے قانونی، سماجی، مذہبی اور پالیسی پہلوؤں پر ایک متوازن اور بامقصد مکالمے کو فروغ دینا تھا۔ویبینار کا آغاز این آئی پی پی کی سینئر ریسرچ ایسوسیٹ بشریٰ بشیر کے استقبالیہ کلمات سے ہوا، جس کے بعد ڈین، این آئی پی پی نے افتتاحی خطاب کیا۔ تقریب میں قانونی ماہرین، پالیسی سازوں، کمیونٹی نمائندگان، سماجی کارکنوں، طبی ماہرین اور مذہبی سکالرز کے علاوہ ٹرانس جینڈر اور خواجہ سرا افراد نے شرکت کی تاکہ موجودہ قانون سازی کی افادیت کا جائزہ لیا جا سکے اور شمولیت کو مضبوط بنانے اور حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر راستے تلاش کیے جا سکیں۔ ویبینار کے اختتام پر ڈین، این آئی پی پی نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، جامع طرز حکمرانی اور مختلف فریقین کے درمیان تعمیری مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔