پاکستان میں 86لاکھ بچے چائلڈ لیبرکا شکار ہیں،این سی ایچ آر
چائلڈ لیبر خاتمہ کیلئے مؤثر بجٹ، قانون سازی ناگزیر ،وزیر انسانی حقوقپنجاب 60، سندھ 16،پختونخوا 7، بلوچستان میں 2لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار، رپورٹ
اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے، خصوصی نیوز رپورٹر) این سی ایچ آر اور یونیسیف کے اشتراک سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 86لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں جن میں سے 66لاکھ سے زائد بچے خطرناک مشقت کرتے ہیں۔ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر این سی ایچ آر کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے کہا پاکستان میں بچوں سے مشقت کے حوالے سے آخری جامع سروے 1996میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا پنجاب 60، سندھ 16، پختونخوا 7، بلوچستان میں 2لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، جبکہ اسلام آباد میں 15ہزار 180بچے محنت مزدوری کرتے ہوئے ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ میں غربت کو چائلڈ لیبر کا سب سے بڑا سبب قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چائلڈ لیبر کا مسئلہ غربت، تعلیم، صحت اور گورننس جیسے باہم جڑے ہوئے شعبوں سے تعلق رکھتا ہے ، لہٰذا اسے کسی ایک وزارت یا کسی ایک اقدام کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیلئے مؤثر بجٹ، قانون سازی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سب سے بڑھ کر ہر سطح پر مستقل سیاسی عزم اور اجتماعی عہد کی ضرورت ہے۔ یونیسف کی نمائندہ پیرنیل آئرن سائیڈ نے کہا اب وقت آ گیا ہے کہ ان شواہد کو ایسی پالیسیوں اور سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جائے جو غربت کا مقابلہ کرسکیں۔