قانونی نظام میں اے آئی کیسا تھ انسانی نگرانی ناگزیر ،شزہ فاطمہ

 قانونی نظام میں اے آئی کیسا تھ انسانی نگرانی ناگزیر ،شزہ فاطمہ

عدالتی نظام پیپر لیس بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، وفاقی وزیر

 اسلام آباد (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں نظامِ انصاف کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہو چکا ،عدالتی نظام کو پیپر لیس بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی تربیتی پروگرام کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا مصنوعی ذہانت کو صرف بڑی لینگویج ماڈلز کے سپرد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان میں غلط معلومات کا خدشہ رہتا ہے اس لیے قانونی نظام میں ہیومن ان دی لوپ(انسانی نگرانی)کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے ، قانونی شعبے کے لئے اے آئی ماڈلز کو صرف مستند عدالتی فیصلوں، قوانین اور متعلقہ ڈیٹا پر ہی تربیت دی جانی چاہئے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اور لا اینڈ جسٹس کمیشن کے ساتھ اشتراک سے دفاتر کو ای آفس کے ذریعے پیپر لیس بنا دیا گیا ہے ، زیر التوا مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے اور شہریوں کو دہلیز پر شفاف و تیز ترین انصاف فراہم کرنے کے لئے متبادل تنازعاتی حل(اے ڈی آر) اور جدید ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...